وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز تازہ ترین صورتحال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے ممالک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کی موجودگی اور ہندوستان کے معاشی مفادات کی وجہ سے ان حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس تنازعہ میں تیزی آئی ہے اور یہ دیگر ممالک تک پھیل گیا ہے، جس سے تباہی اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے اور معمولاتِ زندگی و معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ ہم اس تنازعہ کے فوری خاتمے کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ پہلے ہی بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ خلیجی خطے میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری مقیم ہیں۔ ان کی حفاظت اور بہبود ہندوستان کی اولین ترجیح ہے۔ ہندوستان اپنے شہریوں کے مفادات پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی واقعے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ ہندوستان کی تجارت اور انرجی کی سپلائی لائنز اسی جغرافیائی خطے سے گزرتی ہیں۔ کسی بھی بڑے تعطل کے ہندوستانی معیشت پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک عالمی افرادی قوت رکھنے والے ملک کے طور پر، ہندوستان تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے حملوں میں کچھ ہندوستان شہری جاں بحق یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ متاثرہ ممالک میں ہندوستانی سفارت خانے شہریوں اور کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ضرورت کے مطابق مشاورتی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ تنازعہ کے باعث پھنسے افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہندوستان خطے کی حکومتوں اور دیگر اہم شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصبوں سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔ حکومت بدلتی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی مفاد میں ضروری فیصلے کرتی رہے گی۔
واضح رہے کہ ہندوستان نے 28 فروری کو بھی ایران اور خلیجی خطے میں تنازعہ کے آغاز پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ بدقسمتی سے، رمضان کے مقدس مہینے میں اس خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
