Masarrat
Masarrat Urdu

ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ، سعودی دفاعی نظام سے دشمن کی کوشش ناکام

  • 03 Mar 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ریاض، 3 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس کے نتیجے میں عمارت میں محدود پیمانے پر آگ لگ گئی اور معمولی مادی نقصان ہوا ہے۔

اس واقعے کے بعد سعودی عرب میں موجود امریکی مشن نے جدہ، ریاض اور ظہران میں مقیم اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ امریکی مشن نے خطے میں کسی بھی فوجی تنصیبات تک غیر ضروری سفر کو محدود کر دیا ہے اور مملکت میں موجود امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں میں رہیں۔

 

امریکی مشن نے مزید کہا کہ وہ سعودی عرب میں علاقائی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور ہم تمام مسافروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ہمارے تازہ ترین سکیورٹی الرٹس کا جائزہ لیں اور کسی بھی ممکنہ خلل کی صورت میں اپنے سفری منصوبوں پر نظرثانی کریں تاکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کو یقینی بنا سکیں۔ ہم تمام امریکی شہریوں کو ذاتی حفاظتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہیں کیونکہ بیرون ملک قیام یا سفر کے دوران بحران اچانک پیدا ہو سکتے ہیں اور ایک بہتر منصوبہ آپ کو پیشگی درست فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانا سعودی عرب میں شہریوں اور سفارتی تنصیبات کے خلاف ایرانی جارحانہ حملوں کا ہی تسلسل ہے۔ سعودی وزارت دفاع نے شہزادہ سلطان ایئر بیس کے قریب دشمن کے 5 ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو مملکت کی فضائی حدود کی حفاظت اور کسی بھی خطرے سے فوری نمٹنے کی اعلیٰ دفاعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان واقعات کے باوجود ریاض میں عوامی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا اور تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں کیونکہ سعودی عرب کا سکیورٹی نظام مملکت کے امن و استحکام اور شہریوں و مقیمین کی سلامتی کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور علاقائی حالات کے تناظر میں سعودی عرب میں سکیورٹی کی صورتحال مکمل طور پر اطمینان بخش ہے اور تمام علاقوں میں روزمرہ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہے۔ ریاست شہریوں اور مقیمین کی سلامتی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتی ہے اور وہ تمام حالات سے سوچے سمجھے منصوبوں اور مکمل تیاری کے ساتھ نمٹ رہی ہے جبکہ سرکاری ذرائع سے حقائق پر مبنی ذمہ دارانہ معلومات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ سکیورٹی کے تمام شعبے ایک مربوط سکیورٹی اور خدماتی نظام کے تحت چوبیس گھنٹے متحرک ہیں جس سے وطن کا تحفظ اور وہاں رہنے والے ہر فرد کی سلامتی مستحکم ہو رہی ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ مملکت، اس کے زائرین اور مقیمین کا تحفظ سب سے مقدم ہے۔ عوام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں یا نامعلوم ویڈیوز پر کان نہ دھریں اور معلومات کے حصول کے لیے صرف سرکاری و مستند ذرائع پر ہی بھروسہ کریں۔

Ads