تہران/واشنگٹن، یکم مارچ (یو این آئی) تہران پر ہفتہ کی علی الصبح امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (86) کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کے علاوہ جن اہم شخصیات کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے ان میں مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی، وزیر دفاع کمانڈر عزیز نصیرزادہ، اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر محمد پاکپور، سکیورٹی مشیر اور دفاعی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد شامل ہیں۔
خامنہ ای کے انتقال کے بعد ملک کی باگ ڈور تین رکنی کمیٹی کے سپرد کر دی گئی ہے جس میں صدر مسعود پزشکیان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی اور قانون ساز رہنما علی رضا ارافی شامل ہیں۔ مزید برآں اعلیٰ فوجی افسر احمد وحیدی کو آئی آر جی سی کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
خامنہ ای کی وفات کے بعد 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملوں میں ان کی بیٹی، داماد اور نواسہ بھی جاں بحق ہوئے۔ فارس خبر رساں ایجنسی نے اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے ان اموات کی تصدیق کی اور کہا کہ سپریم لیڈر راجدھانی پر حملوں کے دوران اپنے دفتر میں موجود تھے جہاں وہ سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔ بعد ازاں سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کی۔
ایرانی حکومت نے اس واقعے کو بڑا جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اسلامی دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔
مسعود پزشکیان نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا بدلہ لینا ایران کا قانونی حق اور ذمہ داری ہے۔ سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای دنیا کے بدترین لوگوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
امریکی میڈیا نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتہ کے حملوں میں 40 ایرانی عہدیدار ہلاک ہوئے، تاہم ایران کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ادھر ایران کے حملے میں اسرائیل کے بیت شیمیش علاقے میں نو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ دبئی میں ایک ڈرون حملے میں تین افراد جاں بحق اور 58 زخمی ہوئے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کویت میں ایرانی حملے کے نتیجے میں ایک شخص کی موت اور 32 افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔
اسرائیل نے اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جبکہ فوجی اسپتال بھی فائرنگ کی زد میں آ گئے۔ اسرائیل نے متعدد فوجی ٹھکانوں پر میزائل داغے۔ جواباً ایران نے امریکہ کے جنگی بحری جہاز 'ابراہم لنکن' پر چار میزائل فائر کرنے کا دعویٰ کیا۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اتوار کو تازہ فضائی حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے بیان جاری کیا کہ 'آپریشن رورنگ لاین' کے آغاز کے بعد پہلی بار آئی ڈی ایف تہران کے حکومتی مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح شہر کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں شہر کے کئی حصوں سے گھنے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
صدر پزشکیان نے خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے ذمہ داروں کو پچھتانا پڑے گا۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'یہ بڑا جرم ہرگز بے جواب نہیں رہے گا۔'
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا، 'ایران نے کہا ہے کہ وہ آج بہت زوردار حملہ کرنے جا رہا ہے، ایسا حملہ جیسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ایسا نہ کریں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔'
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں خامنہ ای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ 'تاریخ کے سب سے ظالم لوگوں میں سے ایک خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف ایران کے عوام بلکہ عظیم امریکیوں اور دنیا بھر کے کئی ممالک کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے۔' انہوں نے اسے ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کی باگ ڈور واپس لینے کا موقع قرار دیا۔
اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا، "آج صبح ہم نے خامنہ ای کے کمپلیکس کو تباہ کر دیا۔ اب اس کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے "آیت اللہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی ہلاک کر دیا ہے" اور آئندہ دنوں میں مزید حملوں کا عندیہ دیا۔ نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے "حکومت کا تختہ الٹنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے" کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اتوار کو خبردار کیا کہ امریکی۔اسرائیلی مشترکہ حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کی جانب سے "تاریخ کی سب سے شدید جارحانہ مہم" جلد شروع کی جائے گی۔ آئی آر جی سی نے بیان میں کہا کہ "امریکی دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقوں اور اڈوں کی جانب تاریخ کے سب سے شدید حملے جلد شروع ہوں گے۔"
ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) نے کہا کہ وہ "دنیا کے ظالموں کے خلاف ایک بڑی بغاوت کا آغاز" کرے گی۔ ان دھمکیوں کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے وسطی تل ابیب کو نشانہ بنایا۔ شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ہنگامی خدمات نے متعدد متاثرہ مقامات پر کارروائی کی۔قابلِ ذکر ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم مذہبی و سیاسی رہنما اور مسلح افواج کے سربراہ تھے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ کے بانی روح اللہ خمینی کی جگہ سنبھالی تھی۔ سپریم لیڈر کی حیثیت سے انہیں ایران کی حکومت، مسلح افواج اور عدلیہ پر حتمی اختیار حاصل تھا اور وہ ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی اتھارٹی بھی تھے۔ اپنے دور میں انہوں نے مغرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات، وسیع پابندیوں، اندرونی بے چینی اور تہران کے جوہری پروگرام پر بارہا تعطل جیسے چیلنجز کا سامنا کیا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کی صبح ایران کے خلاف ایک بڑا اور مربوط فوجی حملہ کیا جس میں تہران، قوم، اصفہان، کرمان شاہ اور کراج سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ریاست ہورموزگان میں بچیوں کے ایک پرائمری اسکول پر حملہ بھی شامل تھا، جس میں طالبات سمیت 148 افراد ہلاک اور 95 زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے حقائق کی تحقیقات کرے گا۔ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملے کے خلاف اقوام متحدہ سمیت روس، یورپی یونین، چین، جنوبی افریقہ، شمالی کوریا، ملائیشیا، عمان اور عراق سمیت متعدد ممالک نے کھل کر مخالفت کی۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ایران پر فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری مذاکرات شروع کرنے اور خطے کو "تباہی کے دہانے سے واپس لانے" کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کے جوابی حملوں کی بھی مذمت کی جو بحرین، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیے گئے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خامنہ ای کی ہلاکت کو "جنون میں کی گئی کارروائی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قتل "انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں" کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خامنہ ای کو روس میں ایک "نمایاں سیاستدان" کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ چین نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی مخالفت کی جانی چاہیے اور سب کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرنی چاہیے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کجا کلاس نے خامنہ ای کی موت کو "ایران کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ" قرار دیا۔تہران/واشنگٹن، یکم مارچ (یو این آئی) تہران پر ہفتہ کی علی الصبح امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (86) کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کے علاوہ جن اہم شخصیات کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے ان میں مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی، وزیر دفاع کمانڈر عزیز نصیرزادہ، اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر محمد پاکپور، سکیورٹی مشیر اور دفاعی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد شامل ہیں۔
خامنہ ای کے انتقال کے بعد ملک کی باگ ڈور تین رکنی کمیٹی کے سپرد کر دی گئی ہے جس میں صدر مسعود پزشکیان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی اور قانون ساز رہنما علی رضا ارافی شامل ہیں۔ مزید برآں اعلیٰ فوجی افسر احمد وحیدی کو آئی آر جی سی کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
خامنہ ای کی وفات کے بعد 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملوں میں ان کی بیٹی، داماد اور نواسہ بھی جاں بحق ہوئے۔ فارس خبر رساں ایجنسی نے اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے ان اموات کی تصدیق کی اور کہا کہ سپریم لیڈر راجدھانی پر حملوں کے دوران اپنے دفتر میں موجود تھے جہاں وہ سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔ بعد ازاں سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کی۔
