میڈیا کو جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس دورے پر وزیرِ اعظم کی تقریر اور عوامی طرزِ عمل نے ان لاکھوں ہندوستانیوں کو گہری مایوسی میں مبتلا کیا ہے جو عالمی سطح پر انصاف اور مظلوم اقوام کی حمایت میں اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں اور امدادی اداروں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی قرار دیا ہے ۔اس تناظر میں وزیر اعظم کا طرز عمل غیر متوقع اور تکلیف دہ تھا ۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ نسلی امتیاز، نوآبادیاتی قبضے اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق کی مخالفت کی ہے۔ عالمی امور میں ہندوستان کا اخلاقی مقام محض تزویراتی مفادات پر نہیں بلکہ انسانی حقوق اور تہذیبی اقدار پر قائم رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو توقع تھی کہ وزیرِ اعظم اس دورے کے دوران اسی ورثے کو برقرار رکھیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔
سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا طویل قبضہ اور اس کی جارحیت کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی بار نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) سے تعبیر کیا ہے اور غزہ میں جاری وسیع پیمانے پر تباہی اور قتل و غارت گری محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک سنگین اخلاقی بحران ہے۔ ایسے نازک لمحے میں اسرائیلی قیادت کے ساتھ گرمجوشی کا مظاہرہ لاکھوں ہندوستانیوں کے دلوں میں گہری اذیت کا باعث بنا ہے جن کا ضمیر فلسطینی عوام اور انصاف کے ساتھ وابستہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی ہند نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد خود نوآبادیاتی تسلط اور ناانصافی کے خلاف ایک اخلاقی جدوجہد تھی۔ ہندوستان کی قومی شناخت اور عالمی احترام اس کی سچائی، انصاف اور انسان دوستی کی وجہ سے قائم ہے۔فلسطینی عوام کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی مصائب اور منظم جبر کے مقابلے کسی بھی طرح کی خاموشی اس قابلِ فخر ورثے کو کمزور کر سکتی ہے اور عالمی سطح پر ایک اصولی آواز کے طور پر ہندوستان کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہندوستان کے عوام فلسطینی مسئلے کو محض ایک جغرافیائی یا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کی روح ہمیشہ مذہب، جغرافیہ یا سیاسی مصلحت سے بالاتر ہو کر مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ ہندوستان کا یہی تہذیبی مزاج اپنی قیادت کو ناانصافی کے خلاف سچ اور جرات کے ساتھ بولنے کا تقاضا کرتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت نے ہمیشہ نوآبادیاتی قبضے، نسلی امتیاز اور ناانصافی کی مخالفت کی ہے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مسلسل حمایت کی ہے۔ یہ موقف کسی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاقی اصولوں، آزادی، وقار اور انصاف کی اقدار سے مشروط ہے۔
آخرمیں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی حقیقی طاقت محض اس کی معاشی یا تزویراتی قوت میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی آواز میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ضمیر اور اس کی تہذیبی روح کو قائم رکھنے کے لئے ملک کی قیادت کو اپنی قومی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے ۔
