ریگولیٹر نے ریفنڈ جاری کرنے کی زیادہ سے زیادہ مدت اور کم از کم ریفنڈ کی حد بھی مقرر کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے سول ایوی ایشن ریکوائرمنٹس (سی اے آر) میں ترمیم کی گئی ہے جن کے تحت ملک کے شہری ہوابازی شعبے کو منظم کیا جاتا ہے۔ نئے ضوابط 26 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔
نئے قوانین کے مطابق ٹکٹ بکنگ کے بعد 48 گھنٹوں تک ایئرلائنز مسافروں کو ’لُک اِن آپشن‘ فراہم کریں گی۔ اس مدت کے دوران مسافر بغیر کسی اضافی فیس کے ٹکٹ منسوخ یا اس میں تبدیلی کر سکیں گے۔ تاہم اگر وہ کسی دوسری پرواز میں بکنگ کراتے ہیں تو دونوں کرایوں کے فرق کی ادائیگی انہیں خود کرنا ہوگی۔
لُک اِن آپشن سے فائدہ اٹھانے کے لیے گھریلو پروازوں کے لیے کم از کم سات دن پہلے اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے 15 دن پہلے بکنگ کرانا ضروری ہوگا۔ یہ لازمی ہے بکنگ براہِ راست ایئرلائن کے پلیٹ فارم کے ذریعے کی گئی ہو۔ مسافروں کو بکنگ کے 48 گھنٹے بعد کی جانے والی تبدیلیوں یا منسوخی کے لیے کینسلیشن چارجز ادا کرنے ہوں گے۔
مزید برآں، نئے ضابطے کے تحت اگر ٹکٹ ٹریول ایجنٹ یا ٹریول پورٹل کے ذریعے بک کیا گیا ہو تو بھی اہل مسافروں کو 14 دن کے اندر ریفنڈ فراہم کرنا ایئرلائن کی ذمہ داری ہوگی کیونکہ ایجنٹ ان کے مقرر کردہ نمائندے تصور کیے جاتے ہیں۔
مسافروں کی سہولت کے لیے ایک اور شق شامل کی گئی ہے کہ اگر ٹکٹ براہِ راست ایئرلائن کے پلیٹ فارم سے بک کیا گیا ہو اور مسافر 24 گھنٹوں کے اندر نام میں غلطی کی اطلاع دے دے تو نام کی تصحیح پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔
اگر کسی مسافر یا ایک ہی پی این آر پر بک کیے گئے مسافروں میں سے کوئی ایک سفر کے دوران اسپتال میں داخل ہو جائے تو ایئرلائن ریفنڈ یا کریڈٹ شیل میں رقم جمع کرانے کا اختیار دے گی۔ اگر مسافر اسپتال میں داخل نہ ہو تو اسے ڈی جی سی اے کے منظور شدہ ایرو اسپیس میڈیسن ماہر سے طبی سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا جس میں یہ تصدیق ہو کہ وہ سفر کے لیے موزوں نہیں ہے۔
ڈی جی سی اے نے واضح کیا ہے کہ حکومت ایئرلائنز کی تجارتی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے، لیکن مسافروں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر عوامی مفاد کے تحفظ اور کم از کم معیارات مقرر کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
