Masarrat
Masarrat Urdu

تحقیق کے لیے علمی دیانت ناگزیر ہے: ڈاکٹر سفیان احمد

  • 20 Feb 2026
  • مسرت ڈیسک
  • ادب
Thumb

نئی دہلی، 20 فروری (مسرت ڈاٹ کام) شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام چوتھے سالانہ توسیعی خطبے کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ خطبہ ڈپٹی لائبریرین، ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری، جامعہ ملیہ اسلامیہ ڈاکٹر سفیان احمد نے ”علمی دیانت: تحقیق کی اخلاقیات اور ماخذ کی تنظیم کے ٹولز“ کے عنوان سے تالار ایران شناسی میں پیش کیا۔ جاری ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ تحقیق میں علمی دیانت ناگزیر ہے۔ ایمانداری، اعتماد، انصاف پسندی، احترام اور ذمہ داری علمی دیانت کے اہم ستون ہیں۔ ایک محقق کو چاہیے کہ وہ درست حوالہ جات کا اہتمام کرتے ہوئے سرقے سے گریز کرے۔ حوالہ جات کی پیش کش میں جدید تحقیقی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ آج کل ماخذ کی تنظیم اور سرقے کی جانچ کے لیے کئی ٹولز، ایپس اور سافٹ ویئر ز دستیاب ہیں۔ تعلیمی تحقیق سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ سرقے کے حوالے سے یو جی سی ریگولیشن 2018 کو پیش نظر رکھے۔

صدر شعبہ اردو، پروفیسر کوثر مظہری نے مہمان مقرر کی خدمت میں نہال پیشی کرتے ہوئے صدارتی کلمات میں کہا کہ طلبہ کو دیانت دار اور ایماندار ہونا چاہیے اور انھیں اپنے کام کے تئیں ذمہ دار اور حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر نگراں با خبر ہو تو بغیر کسی ایپ اور سافٹ ویئر کے وہ سرقے کی نشا ن دہی کر سکتا ہے۔ تحقیق کی اخلاقیات کا پاس و لحاظ رکھنا ہمارا علمی فریضہ ہے۔

خطبے کے کنوینر ڈاکٹر محمد مقیم تھے۔ پروگرام کا آغاز عبد الرحمن کی تلاوت اور اختتام ڈاکٹر شاہنواز فیاض کے اظہار تشکر پر ہوا۔

اس موقع پر پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر شاہ عالم، پروفیسر عمران احمد عندلیب، پروفیسر سرور الہدی، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر مخمور صدری، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر خان محمد رضوان، ڈاکٹر ثاقب فریدی اور ڈاکٹر راحت افزا کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

 

Ads