مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے الزام لگایا کہ روسی تیل کے سلسلے میں ہندوستان کے اسٹریٹجک مفادات سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ اسے ملک کی سیادت پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔ پہلی بار، ہندوستانی زراعت کو غیر ملکی مصنوعات کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے نئے دستاویز میں خاموشی سے "دالوں" کو شامل کیا گیا ہے، جو مشترکہ بیان میں مذکور نہيں تھی۔
کانگریس صدر نے ڈیری سیکٹر کے سلسلے میں بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ کی جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (جی ایم) جانوروں کی خوراک کی درآمد سے ملک کے 20 ملین ڈیری کسان اور مقامی مویشیوں کو نقصان پہنچے گا۔
گارمنٹس انڈسٹری پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان پر 18 فیصد درآمداتی چنگی عائد کی گئی ہے، بنگلہ دیش کو صفر ڈیوٹی کا فائدہ دیا گیا ہے۔ مسٹر کھڑگے نے سوال کیا کہ کیا یہ جیت ہے یا وزیر اعظم نریندر مودی کی جھوٹی مقبولیت کی آڑ میں قومی مفاد کی قربانی۔
