پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے مزید کہا کہ ’حکومت کسی بھی ملک کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بات چیت میں ملک کے کسانوں کے مفادات کو سب سے اوپر رکھتی ہے اور امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدے میں ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی، جس سے ہندوستانی کسانوں کے مفادات متاثر ہوں‘۔
’اس معاہدے کے تحت، امریکہ کو کیے جانے والے ہندوستانی برآمدات پر عائد 50 فیصد ٹیرف اب کم کرکے صرف 18 فیصد کر دیا جائے گا۔ 18 فیصد ہمارے تمام پڑوسی ممالک اور دیگر ممالک کی جانب سے عائد ٹیرف سے کم ہے، آنے والے دنوں میں ہمیں اور ہمارے برآمد کنندگان کو بڑا فائدہ ہوگا‘۔
مسٹر گوئل نے مزید کہا کہ ’کئی ایسی اشیاء ہیں، جن پر اب جب ہمارے برآمد کنندگان امریکہ میں اپنا سامان بھیجیں گے تو صفر ڈیوٹی عائد ہوگی۔ جس کے بعد 30 ارب ڈالر کی امریکی منڈی ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے کھل جائے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسانوں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ مثال کے طور پر قیمتی جواہرات اور ہیروں پر زیرو ڈیوٹی ہوگی۔ فارماسیوٹیکل مصنوعات ہندوستان نے بڑے پیمانے پر جاتی ہیں، تقریباً 13 بیلین ڈالر کی۔ اس پر زیرو ڈیوٹی لگے گی۔ اسمارٹ فون ہندوستان سے بڑے پیمانے پر امریکہ جاتے ہیں،اس پر بھی زیرو ڈیوٹی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ بہت ساری اشیاء ہیں جن پر مستقبل میں زیرو ڈیوٹی لگے گی۔
’اس طرح، مستقبل میں کئی ایسی اشیاء ہیں، جن پر ڈیوٹی صفر ہوگی۔ زرعی شعبے میں بھی کئی ایسی اشیاء ہیں جو ہندوستان سے امریکہ برآمد کی جائیں گی، جن پر زیرو ٹیرف عائد ہوگا، یعنی اضافی ڈیوٹی صفر ہوگی۔ مثال کے طور پر مصالحے، چائے، کافی اور ان سے بنی مصنوعات، ناریل اور ناریل کا تیل، ویجیٹیبل ویکس، سپاری، برازیل نٹ، کاجو اور چیسٹ نٹ، کئی پھل اور سبزیاں وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں‘۔
مسٹر گوئل کا کہنا تھا کہ دوسری جانب امریکہ میں جوابی درآمدی محصولات گھٹ کر 18 فیصد ہونے سے ہندوستانی در آمد کاروں کو کھلونوں، کھیلوں سے متعلق اشیاء اور کپڑوں کے برآمد کنندگان کو امریکی منڈی میں بہتر مواقع ملیں گے۔ امریکہ میں 18 فیصد درآمدی محصول ہندوستان کے تمام پڑوسی اور حریف ممالک کے مقابلے میں کم تر ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن پر اشاروں میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لوگ ہندوستان کے کسانوں کے مخالف ہیں اور کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو اس معاہدے پر حیرانی ہو رہی ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے مابین یہ معاہدہ کیسے ہوگیا۔ جس میں کہ ہندوستانی درآمد کاروں کو امریکہ میں اپنی اشیاء کے لیے بہ آسانی وسیع تر رسائی حاصل ہوگی‘۔
