مسٹر گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ "میرے پیارے ہم وطنو اور ساتھیو، اس ہفتے پارلیمنٹ میں کچھ ایسا ہوا جو نہ صرف غیرمعمولی تھا بلکہ مکمل طور پر غیر جمہوری بھی تھا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما کے طور پر جب میں نے ایک سنگین قومی سلامتی کے بحران کے دوران وزیر اعظم مودی کی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے پر سوال اٹھایا، تو مجھے بولنے ہی نہیں دیا گیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب میں سامنے آئے حقائق نے ایک ناگوار سچائی کو اجاگر کیا ہے کہ جب چین۔ہند پر دباؤ ڈال رہا تھا، تب وزیر اعظم ہماری فوج کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے۔ اسی لیے بحث کو روکا گیا اور اسی لیے پارلیمنٹ کو خاموش کر دیا گیا۔
مسٹر گاندھی نے کہاکہ "یہ حکومت خوف سے چلتی ہے— جواب دہی کے خوف سے اور سچائی کے خوف سے۔ ہندوستان کو جواب چاہیے اور اسے ایسی پارلیمنٹ چاہیے جہاں آزادی سے بات کی جا سکے۔"
