کانگریس کے جنرل سکریٹری کے۔ سی۔ وینوگوپال نے سوشل میڈیا "ایکس" پر لکھا کہ یہ حکومت اپنی ناکامی کے سچ کے سامنے آنے سے اتنی ڈری ہوئی ہے کہ اس نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو لوک سبھا میں بولنے سے روکنے کے لیے اپنے سب سے سینئر کابینی وزیروں کا گروپ تعینات کر دیا ہے۔
مسٹر وینوگوپال نے کہاکہ "حکومت نے سابق فوجی سربراہ جنرل منوج نروانے کی کتاب کی اشاعت روکنے کے لیے زمین و آسمان ایک کر دیا ہے اور اب جو اقتباسات سامنے آ رہے ہیں وہ ان کی نام نہاد قوم پرست وابستگیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اب وہ اپوزیشن لیڈر کو گھیر رہے ہیں اور خاموش کرا رہے ہیں۔"
انہوں نے کہاکہ "پارلیمنٹ میں قواعد اور طریقہ کار کا حوالہ دے کر ان کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ ایوان اور ملک کی عوام کو چین کے خلاف جدوجہد میں حکومت کی ہمالیائی غلطیوں کے بارے میں جاننے سے محروم کیا جا رہا ہے۔"
مسٹر وینوگوپال نے مزید لکھاکہ "یہ 21ویں صدی کے فاشزم کا معاملہ ہے، جہاں پہلے عوام میں اختلافِ رائے کو دبایا جاتا ہے اور پھر مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے قواعد کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔"
