Masarrat
Masarrat Urdu

شیخ الہند ؒمولانا محمود حسن کے تعلیمی افکار و نظریات

  • 25 Oct 2019
  • ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی
  • مضامین
Thumb


دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم، ریشمی رومال تحریک کے روح رواں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ایک وسیع النظر عالم دین تھے۔ ان کے یہاں قدیم و جدید کی تفریق و تمیز نہ تھی۔ وہ تمام تر علوم کو ایک ہی عینک سے دیکھتے تھے۔ اور تمام علوم و فنون کا رشتہ افادیت و منفعیت سے استوار کرتے تھے۔ دیگر علمائے دیوبند نے بھی تعلیمی نظریات کے حوالے سے فراخ قلبی اور وسعت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔مولانا قاسم نانوتوی،مولانا رشید احمد گنگوہی،علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی،مولانا مناظر احسن گیلانی اور مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ وہ ممتاز علمائے دیوبندہیں، جن کے یہاں تعلیم کے نام پر قصہئ جدید و قدیم کی حکمرانی نہ تھی۔ علمائے دیوبند کی فکری بنیاد اور علمائے ہند کے سرخیل، مسند الہند شاہ ولی اللہ نے بھی علم کو دینی اور عصری خانوں میں نہیں بانٹا ہے،بلکہ دنیا اور عقبی کی بنیاد پر علوم کو تقسیم کیا ہے۔ تفہیمات الہیہ کے حوالے سے مولانا علی میاں ندوی نے تاریخ دعوت و عزیمت حصہ پنجم میں یہ لکھا ہے:
”میں ان طالبان علم سے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں کہ اللہ کے بندو! تم یونانیوں کے علوم کے طلسم اور صرف ونحو و معانی کے دلدل میں پھنس کر رہ گئے، تم نے سمجھ لیا کہ علم اسی کا نام ہے، حالانکہ علم یا تو کتاب اللہ کی آیت محکم ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی سنت ثابتہ۔“(تاریخ دعوت و عزیمت، حصہ پنجم، ص:۷۸۱، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ، ۲۰۰۲ء)
پھر سنت رسول نماز، وضو، روزہ، حج، زکاۃ اور جہاد وغیرہ افعال نبوی کی تفصیل بتانے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ
”علوم آلیہ سے اس دہن کے ساتھ اشتغال کرو کہ وہ آلات و وسائل ہیں، ان کی مستقل حیثیت اور مقصود کا درجہ نہیں، کیا خدا نے تمہارے اوپر یہ واجب نہیں کیا کہ تم علم کی اشاعت کرو، یہاں تک کہ مسلمانوں کے ملک میں شعائر اسلام ظاہر و غالب ہوں، تم نے شعائر کا تو اظہار نہیں کیا، اور لوگوں کو زوائد میں مشغول کردیا۔“(ایضا، ص:۹۸۱)
شاہ ولی اللہ کا یہی تعلیمی نظریہ ہے جس میں بنیاد و اساس کے طور پر علوم عالیہ یعنی کتاب و سنت کے محکم علوم کی تحصیل پر زور دیا گیا ہے جس سے عقیدے اور اخلاق کی درستگی کا مسئلہ مربوط ہے اور جس کی بنیاد پر بہتر اسلامی معاشرہ کی تعمیر وتشکیل ممکن ہے۔ 
شیخ الہند نے عربی مدارس اور روایتی طرز کے اداروں میں تعلیم حاصل کی تھی، انھوں نے گرچہ سرکاری اور عصری اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی کہ وہ اول تا آخر مدرسی تعلیم یافتہ تھے، مگر ان کا گھرانہ جدید اور عصری تعلیم کی روشنی سے بے بہرہ نہیں تھا۔ ان کے آباؤ اجداد نے عصری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ خود شیخ الہندکے والد ماجد مولانا ذو الفقار دیوبندی نے دہلی کے مشہور زمانہ عربک کالج میں تعلیم حاصل کی تھی، ان کے اساتذہ میں کالج کے پرنسپل مولانا مملوک علی نانوتوی اور مفتی صدر الدین آزردہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کے والد نے نہ صرف ان سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کی، بلکہ سرکاری ملازمت بھی کی تھی۔ ان کے والد فراغت کے بعد بریلی کے کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ چند سال بعد ترقی ملی اور ۱۵۸۱ء میں محکمہئ تعلیم میں ڈپٹی انسپکٹرآف اسکولس کے منصب پربھی فائز ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد دیوبند میں آنریری مجسٹریٹ رہے۔اس وقت کے مغربی دانش ور مسٹر ٹیلر ان سے واقف تھے اور اس نے مولانا کی عالمانہ اور دانشورانہ شناخت پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ:
”مولانا ذو الفقار علی صاحب ذہین و طباع ہونے کے ساتھ فارسی اور مغربی علوم سے بھی واقف تھے۔“(حضرت شیخ الہند: حیات اور کارنامے، اسیر ادروی، ص:۴۳،شیخ الہند اکیڈمی دار العلوم دیوبند، ۲۱۰۲ء) 
شیخ الہندؒ کا پورا خاندان عصری تعلیم سے بہرہ ور تھا، ان کے چچا مولانا مہتاب علی بھی دہلی عربک کالج کے فاضل تھے، جن سے انھوں نے فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں، یہ بھی مولانا مملوک علی کے شاگرد رہے تھے۔ انھوں نے سرکاری ملازمت تو نہیں کی، مگردرس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔
 شیخ الہندکی شخصیت تحریکی تھی، ان کی نظر صرف ہندستان اور بر صغیر تک محدود نہ تھی، ان کی تحریک مقامی نہیں عالمی تھی، انھوں نے ہندستان اور ہندستان سے باہر تحریک آزادی کاجو عالم گیر محاذکھول رکھا تھا، اس میں صرف مدارس کی چہار دیواری،خانقاہوں اور مکتبوں میں پرورش پانے والے افراد اور طلبہ ہی شامل نہیں تھے، بلکہ ان کی اس عالمی تحریک سے مدارس کے طلبہ سے کہیں زیادہ وہ نوجوان نسل متأثر تھی جو عصری اداروں: کالجوں اور یو نی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ یہ مولانا کی وسعت ظرفی اور قصہئ قدیم و جدید کو دلیل کم نظری تصور کرنے کی دین ہی رہا ہوگا۔ چناں چہ شیخ الہند کے سوانح نگار مولانا اسیر ادروی لکھتے ہیں کہ بغاوت کے سلسلے میں مولانا عبید اللہ سندھی اور حضرت شیخ الہند پر جو مقدمہ چلایا گیا تھا، اس مقدمے کی فائل میں ان مہاجر طلبہ کا ذکر بھی جلی حروف میں ہے۔ اس فائل میں جذبہئ آزادی سے سرشار ہوکر وطن کو خیرباد کہنے والے طلبہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
”اس سال فروری ۵۱۹۱ء میں پنجا ب کے مختلف کالجوں کے پندرہ طلبہ خفیہ طور پر اپنے گھروں سے روانہ ہوئے اور شمال مغربی سرحدکو عبور کرکے آزاد علاقے میں پہنچے، پھر دوسرے طلبہ نے ایک ایک کرکے یا چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں ان کی پیروی کی، بعد کی اطلاعات سے ظاہر ہوا کہ ان کی اس کار روائی کا محرک سلطنت برطانیہ کی مخالفت کا جذبہ تھا، ترکی سے برطانیہ کی جنگ اس کا سبب تھی.....۵۱۹۱ء میں جو تفتیش اور تحقیقات کی گئیں اس سے اس اہم واقعہ کا انکشاف ہوا کہ صوبہ سرحد تک طلبہ کے سفر کا انتظام پنجاب اور شمالی مغربی سرحدی صوبے میں وہابیوں کی ایک جماعت کرتی تھی اور برطانوی قلمرو پار کرلینے کے بعد سرحد پار کرکے وہابی بینر پہنچا دیتے تھے جو آزاد علاقہ میں وہابیوں کی بستی ہے جن کو مجاہدین یا متعصب ہندوستانی کہا جاتا ہے۔“(حضرت شیخ الہند: حیات اور کارنامے، ص:۴۴۲-۵۴۲، بحوالہ ریشمی خطوط سازش کیس، شائع کردہ الجمعےۃ بک ڈپو، دہلی، ص:۶۶۱)
حضرت شیخ الہند نے اپنی منصوبوں اور عزائم کو بروئے کارلانے کے لیے کئی جماعتیں اور تنظیمیں قائم کی تھیں، انھی جماعتوں میں سے ایک نظارۃ المعارف نام کی تنظیم بھی تھی، اس تنظیم کے روح رواں شیخ الہند ہی تھے، یہ تنظیم تعلیم گاہ ہونے کے ساتھ ایک تربیت گاہ اور ٹریننگ کا مرکز بھی تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی اپنے استاد کی قائم کردہ اس تنظیم کے اہداف و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں:
”اس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی تعلیم سے نوجوانان اسلام کے عقائد و خیالات پر جو بے دینی اور الحاد کا زہریلا اثر پڑتا ہے۔ اس کو زائل کیا جائے اور قرآن کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ ان کے شکوک و شبہات دین اسلام سے دور ہوجائیں اور وہ سچے اور پکے مسلمان ہو جائیں۔“(نقش حیات، ص:۸۳۱، ج:۱)
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طلبا نے برطانوی نظام حکومت کی مخالفت میں ترک موالات کی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور اس سے متأثر ہوکر انگریزوں کی سرپرستی میں اور ان کی اعانت سے چلنے والے سرکاری اداروں کو بھی چھوڑنے کا مردانہ مجاہدانہ فیصلہ کیاتھا۔ اس ترک موالات اور وطن پرستی کے جذبہ کو پروان چڑھانے میں علی برادران، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر انصاری وغیرہ نے کلیدی رول ادا کیا۔ انھوں نے ایم اے او کالج کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو اپنا ہم خیال بنا کرنیشنل مسلم یونی ورسٹی قائم کرنے کی تحریک چھیڑی۔واضح رہے کہ یہی نیشنل مسلم یونی ورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے بعد میں وجود میں آئی۔ انھوں نے جب مسلم نیشنل یونی ورسٹی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی تو اس تاسیسی پروگرام کی صدارت کے لیے شیخ الہند ہی پر ان کی نظر انتخاب پڑی کہ انھوں نے مالٹا سے واپسی کے بعد ترک موالات کی حمایت میں مدلل و مبرہن فتاوی جاری کیے تھے۔حالاں کہ شیخ الہند کے علاوہ اس وقت بڑے بڑے علمائے دین زندہ تھے۔ دیوبنداور سہارن پور سے لے کر دلی تک متقی و خدا ترس علما کی کمی نہ تھی۔ سوئے اتفاق کہ اس زمانے میں شیخ الہند عمر کے آخری پڑاؤ پر تھے، وہ کثیر الامراض تھے اور ان کا فطری ضعف و نقاہت اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ خدام نے جلسہئ تاسیس میں شرکت سے منع فرمایا کہ اس حالت میں سفر ہی دشوار ہے اور پھر وہاں پہنچ کر صدارت و خطابت کا فرض بھی انجام دینا ہے۔ لیکن شیخ الہند نے صرف اس جذبے سے بنفس نفیس سے شرکت کی کہ اگر میری شرکت سے انگریزوں کو تکلیف ہوگی تو میں اس میں ضرور شرکت کروں گا۔ یہ اجلاس ۶۱/ صفر المظفر ۹۳۳۱ء ھ=۹۲/ اکتوبر ۰۲۹۱ء بروز جمعہ جامع مسجد مسلم یو نی ورسٹی علی گڑھ میں منعقد ہوااور اپنے مقاصد و اہداف میں بہت کام یاب رہا۔ شیخ الہند تقریر تو نہ کرسکے کہ صحت مساعدت نہیں کرتی تھی، مگر ان کا خطبہ صدارت ان کے شاگرد مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھ کر سنایا۔ خطبہ کے درج ذیل پیرا گراف خاص طور پر پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں انھوں نے پیرانہ سالی اور فطری ضعف کے باوجود شرکت کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ لکھتے ہیں:
”میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں (جس کا آپ خود مشاہدہ فرمارہے ہیں) آپ کی دعوت پر اس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گم شدہ متاع کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔ بہت سے نیک بندے ہیں، جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا اٹھو اوراس امت مرحومہ کو کفار کے نرغہ سے بچاؤ تو ان کے دلوں پر خوف و ہراس مسلط ہوجاتا ہے۔ خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا، اور ان کے سامان حرب و ضرب کا۔
حالاں کہ ان کو تو سب سے زیادہ جاننا چاہیے تھا کہ خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو وہ خدا کا غضب اور اس کا قاہرانہ انتقام ہے۔“(شیخ الہند مولانا محمود حسن: ایک سیاسی مطالعہ، ابو سلمان شاہ جہاں پوری،(مرتب)ص:۰۹۱، فرید بک ڈپو نئی دہلی، ۱۱۰۲ء)
رسم افتتاح کی اسی تقریب میں عصری اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے مقام و مرتبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ الہند نے بڑی دلسوزی سے ارشاد فرمایا:
”اے نونہالان وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غمخوار(جس میں میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں۔ تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ)کا رشتہ جوڑا۔کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس فعل پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو اپنے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتائیں۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں۔ اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے۔“(ایضا، ص:۰۹۱)
اسی اجلاس میں شیخ الہند نے جدیدعصری زبانوں کے سیکھنے سکھانے اور اس میں مہارت پیدا کرنے کی ترغیب و تحریک دلائی،انھیں معاندین و مخالفین کی طرف سے طنز و تعریض کا خوف بھی دامن گیر تھا، اس لیے اپنے اکابر و اسلاف کے نظریہ و عمل اور ان کے طرز و فکر کا بھی حوالہ دیا، اپنے مخصوص عالمانہ انداز میں انھوں نے اجنبی زبان سیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
”آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہی ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان کے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتوی نہیں دیا۔ ہاں یہ بے شک کہا گیاکہ انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموما دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور اپنے مذہب والوں کا مداق اڑائیں۔ یا حکومت وقتیہ کی پرستش کرنے لگیں تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لیے جاہل رہنا اچھا ہے۔اب از راہ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بد سے اور یہ کیا وہی بات نہیں ہے جس کو آج مسٹر گاندھی اس طرح ادا کر رہے ہیں کہ”ان کالجوں کی تعلیم بہت اچھی صاف اور شفاف دودھ کی طرح ہے جس میں تھوڑا سا زہر ملا دیا گیا ہو“ بارے خدا کا شکر ہے کہ اس نے میری قوم کے نوجوانوں کو توفیق دی کہ وہ اپنے نفع و ضرر کا موازنہ کریں اور دودھ میں جو زہر ملا ہوا ہے اس کو کسی بھپکے کے ذریعہ سے علیحدہ کرلیں۔ آج ہم وہی بھپکا نصب کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ بھپکا مسلم نیشنل یونی ورسٹی ہے۔“(ایضا، ص:۱۹۱)
حضرت شیخ الہند نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور اتنی سی گزارش کے بعد ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ گئے، بلکہ انھوں نے اس سے بہت پہلے دیوبند اور علی گڑھ کو قریب لانے کی کوشش کی تھی۔ طلبہ علی گڑھ اور دار العلوم کے درمیان قربت کی راہ پیدا کرنے کے لیے ۶۰۹۱ء میں جمعےۃ الانصار کی انھوں نے بنیاد ڈالی تھی، جس کے جلسوں میں صاحب زادہ آفتاب احمد خاں بھی شرکت کرتے تھے، اس سلسلے میں جو معاہدہ ہوا تھا، اس کے حوالے سے شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:
”علی گڑھ سے یہ معاہدہ بھی ہوا تھا کہ انگریزی خواندہ طلبہ جو تبلیغ کا شوق رکھیں، وہ دار العلوم دیوبند میں جاکر علوم اسلامیہ حاصل کریں۔ دار العلوم اس کا خاص انتظام کرے گا۔ اسی طرح علی گڑھ کالج ان طلبہ کو خاص انتظام کے ساتھ انگریزی کی تعلیم دے گا جو دار العلوم دیوبند سے فارغ ہوکر علی گڑھ کالج جائیں گے۔“(موج کوثر، شیخ محمد اکرام، ص:۳۰۲، ادبی دنیا دہلی، ۲۶۹۱ء)
اس معاہدے کا خاطر خواہ اثر دونوں اداروں کے وابستگان پر مرتب ہوا، گرچہ علی گڑھ اس معاملے میں ذرا پیچھے رہ گیا کہ وہاں کے فارغین دیوبند کا رخ نہ کرسکے، مگر دیوبند نے اس معاہدہ کو گرہ سے باندھ لیا اور نہ صرف عہد ماضی میں بلکہ آج بھی سینکڑوں فاضل دیوبند علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا رخ کرتے ہیں اور وہاں کے عصری چشمہئ علم سے اپنی تشنگی دور کرتے ہیں۔ عصری تعلیمی ادارے ایک نہیں انیک ہیں،قدیم بھی ہیں اور جدید بھی، دار الحکومت دہلی میں تو عصری جامعات اور اداروں کا جال پھیلا ہوا ہے،مگر فضلائے دیوبندنے ہر دور میں اپنے اکابر کے گہوارہ علی گڑھ کی طرف رجوع کیا ہے۔ شعبہئ دینیات، اسلامک اسٹڈیز،شعبہئ اردو،شعبہئ عربی اور فارسی میں دیوبند کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد داخلہ لے کر عصری میدان میں اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔
جب اس تنظیم جمعےۃ الانصار کے پلیٹ فارم سے کام کرنے میں مشکلات و موانع پیش آئیں تو مولانا عبید اللہ سندھی نے(جو حضرت شیخ الہند کے دماغ گنے جاتے تھے)، اپنا کام دہلی منتقل کیا اور وہاں جاکر نظارۃ المعارف القرآنیہ کی بنیاد ۳۱۹۱ء میں رکھی، اس کے سرپرستوں کی فہرست میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ حکیم اجمل خاں اوراس وقت کے علی گڑھ کالج کے سکریٹری نواب وقار الملک بھی شریک تھے۔ جنھوں نے اس ادارہ کے لیے چندے کی بھرپور کوشش کی اور اس وقت کے اخبارات میں اپیل شائع کرائی۔
افسوس کہ یہ سلسلہ دیر پا ثابت نہ ہوا، اور ۵۱۹۱ء میں دونوں اکابر مولانا سندھی اور حضرت شیخ الہند کے تحریک ریشمی رومال کے کام کاج کے سلسلے میں ہندوستان سے باہر چلے جانے کے سبب علی گڑھ اور دیوبند کے درمیان علمی اور روحانی ارتباط کاوہ سلسلہ رک گیا،جس کی داغ بیل حضرت شیخ الہند نے ڈالی تھی، مگر دیوبند اور علی گڑھ کے درمیان عصری اور دینی علوم کی توسیع و تفریج کا جو ربط و علاقہ قائم ہوا تھا، اس کی از سر نو تشکیل ہوئی اور اس تعلق کا مرکزدوبارہ علی گڑھ  ہی بنا،جہاں ۰۲۹۱ء میں جامعہ ملیہ کی تاسیس عمل میں آئی، اس تاسیسی عمل میں حکیم اجمل خاں، گاندھی جی، مختار احمد انصاری، عابد حسین اور دوسرے اکابر کے شانہ بشانہ حضرت شیخ الہند بھی شامل تھے۔معماران جامعہ میں شیخ الہند کا نام بڑے ادب و احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کے نام سے جامعہ کا ایک دروازہ بھی چند سال قبل منسوب کردیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن کی سوچ بہت کشادہ تھی، وہ وسیع النظرفکر ارجمند کے حامل اور روشن ضمیر عالم دین تھے، انھوں نے قدیم و جدید اور دینی و عصری جامعات کے درمیان جو فاصلہ حائل تھا، اس کو دور کردیا تھا،انھوں نے نہ صرف دیوبند اور علی گڑھ کے درمیان حائل خلیج کو پاٹا، بلکہ باضابطہ علی گڑھ کے متبادل کے طور پرایک نئی دانش گاہ جامہ ملیہ کی بنیاد گزاری کی، جو عصر حاضر میں عالمی پیمانے پر ایک اہم عصری ادارہ شمار ہوتا ہے،مگرا فسوس ہے کہ ان کی یادگار جامعہ ملیہ اسلامیہ پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت اقلیتی ادارہ کی سند تو حاصل کرچکی ہے، مگر وہ اپنے نام کے کچھ لواحقات سے دور ہوتی جارہی ہے، جو بانیان جامعہ کا مطمح نظر تھا۔ معماران جامعہ نے صرف ایک یونی ورسٹی اور تعلیم گا قائم نہیں کی تھی، بلکہ اس کی پشت پر پوری ملت اسلامیہ کے مستقبل کا وسیع تر پروگرم پیش نظر تھا۔ خود شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا تھا:
”جامعہ جہاں اسلامیہ ہے، دوسری طرف ملیہ بھی ہے۔ وہ اپنے اندر ایک طرف اسلامی روایات اور تعلیم کو زندہ کرے گی اور اسی کے ساتھ دوسری طرف متحدہ قومیت کی تعمیر اور اپنے وطن کی آزادی میں ساعی رہے گی۔ جامعہ ملیہ کا مقصد اس ے زیادہ واضح اور روشن اور کچھ نہیں ہوسکتا۔“(معماران جامعہ، ص:۲۱)
اسی طرح ذاکر صاحب نے ہی ”جامعہ ملیہ کیا ہے؟“ نامی کتابچہ میں یہ لکھا تھا:
”جامعہ ملیہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کی آیندہ زندگی کا ایسا نقشہ تیار کرے جس کا مرکز مذہب اسلام ہو اور اس میں ہندستان کی قومی تہذیب کا وہ رنگ بھرے جو عام انسانی تہذیب کے رنگ میں کھپ جائے۔“(معماران جامعہ، ص:۲۱)
کسی اجنبی اور انگریزی زبان کی تعلیم و تدریس کے معاملے میں شیخ الہند گاندھی جی اور ان کے احباب و اقران سے بھی زیادہ کھلا رویہ رکھتے تھے۔ گاندھی جی تو اس معاملے میں اتنے متشدد تھے کہ مادری زبان کے علاوہ کسی اور جدید زبان میں تعلیم کو دیش سے غداری کے مرادف قرار دیتے تھے۔وہ انگریزی کے عالم تھے اور انگریزی کی تدریس کے مخالف نہ تھے، مگر وہ اس کو ذریعہ تعلیم بنانے کے مخالف تھے۔ اپنے اخبار ینگ انڈیا میں ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
”میں نے بڑے غور وخوض کے بعد یہ رائے قائم کی ہے کہ جس طریقے سے ہمیں انگریزی تعلیم دی جارہی ہے اس نے تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کو بالکل نکما کردیا ہے اور طالب علموں کے دماغ پر بہت بڑا بوجھ ڈال کر انھیں نقال بنادیا ہے۔ انگریزی راج کا یہ سب سے افسوس ناک سانحہ ہے کہ ہم اپنے وطن کی زبانوں کو چھوڑ کر ایک غیر ملکی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔“(نیا دور، گاندھی نمبر، جنوری ۶۹۹۱ء، مضمون بعنوان گاندھی جی کے تعلیمی تصورات، ج:۰۵، شمارہ:۰۱)
اور اپنی خودنوشت تلاش حق میں کہتے ہیں:
”جو ہندستانی ماں باپ بچوں کو بچپن سے انگریزی میں سوچنا اور انگریزی بولنا سکھاتے ہیں، وہ اپنے بچوں اور ملک دونوں کے ساتھ بے وفائی کرتے ہیں۔ وہ انھیں قوم کی روحانی اور جسمانی وراثت سے محروم کردیتے ہیں اور انھیں ملک کی خدمات کے ناقابل بنا دیتے ہیں۔ اس عقیدے کی وجہ سے اپنے بچوں سے خاص کرکے انگریزی میں باتیں نہیں کرتا تھا۔“
ہر شخص کے تعلیمی نظریے میں اس کی پوری زندگی کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ شیخ الہند کے افکار و نظریات میں بھی ان کی زندگی صاف آئینہ کی طرح نظر آتی ہے۔وہ تعلیم کو پیشہ اور پروفیشن نہیں، اس کے ذریعہ تہذیب نفس اور تعمیر سیرت پر نظریں مرکوز رکھتے تھے اور صلاحیت سازی اور روحانی تربیت پر توجہ دیتے تھے۔وہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کو اخلاقیات کا مرکز و منبع بنانے پر یقین کرتے تھے اور ایسی تعلیم جس سے قوم کے اخلاق و اخلاص کا دیوالیہ نکل جائے، اس سے بہتر وہ جہالت و ناخواندگی کو سمجھتے تھے۔ وہ تعلیم کو انسانی زندگی میں ہمہ گیر انقلاب کا وسیلہ و ذریعہ تصور کرتے تھے۔ ان کے یہاں تعلیم کے باب میں قدیم و جدید کی تفریق نہ تھی۔ وہ تو تمام صالح و نافع علوم کو مسلمانوں کی ترقی کی کلید سمجھتے تھے اور اسی قسم کی تعلیم کو ملک و قوم میں رواج دینا چاہتے تھے۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہم شیخ الہند ہی نہیں، اپنے اکابر و اسلاف کے نظریہ و عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں، مسلکی اور فروعی اختلافات کی آگ فروزاں کرنے میں اتنے منہمک ہیں کہ ہمارا موروثی گراں قدر سرمایہ ہاتھوں سے ضائع ہوتا جارہا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنے اکابر و اسلاف کے تعلیمی افکار و نظریات کی باز خواندگی کریں اور قدیم و جدید کے نام پر جوگہری اور طویل دیوار حائل ہے، اس کو منہدم کردیں کہ اسی میں ہماری تعلیمی ترقی کا راز مضمر ہے۔
*بی ایم کالج، رہیکا، مدھوبنی، بہار
موبائل:9910509702

 

Ads