Masarrat
Masarrat Urdu

وہی جوان ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا:شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری۔

Thumb


 

نوجوانی  زمانۂِ نشاط، کارنامہ سر انجام دینے ، اور عبادت سے لذت حاصل کرنے کا وقت ہے، یہ نوجوان ہی ہیں جن کی قوتو ں، صلاحیتوں، حوصلوں اور اُمنگوں کے سامنے آلام و مصائب اور حوادث زمانہ ہیچ ہے  نوجوانوں کی جفا کشی ،بلند پروازی اور عزائم کے آگے طوفان بھی گھٹنے ٹیک دیتے ہیں کسی بھی قوم وملک کی کامیابی وناکامی ،فتح و شکست ، ترقی وتنزلی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے دنیا میں برپا ہوئے  انقلابات کا سرچشمہ بھی نوجوان ہی تھے سیاسی ، اقتصادی ، ملکی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی اور انقلاب دہر میں نوجوانوں کی سرگرم رول ہی کلیدی ہوا کرتا ہے غرض سبھی میدانوں میں نوجوانوں کا کردار نہایت ہی اہم اور کلیدی ہوتا ہے مثلا ماضی میں روس، فرانس انقلاب ، پھر عرب بہار، مارٹن لوتھرکنگ کا برپا کردہ انقلاب اور آزادی ہندوستان بھی۔تاریخ کے اوراق انقلاب و آزادی کی جدو جہد میں نوجوانی کی دلیرانہ صفت و کردار  سے بھری پڑی ہیں  اس  کے علاوہ بھی تاریخ کے ماتھے پر بھی ایسے واقعات بھی ثبت ہے اور ایسے نوجوانوں کا کردار جھلمل ستاروں کی مانند چمک رہا ہے جنہوں نے معرفتِ الہی حاصل کی  اور اپنے دین پر ڈٹ گئے، قرآن کریم نے انکا تذکرہ محفوظ کر  لیا، چنانچہ اللہ تبارکو تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ} وہ کہنے لگے:" ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا ذکر کرتے سنا تھا جس کا نام ابراہیم ہے"(الأنبياء : ۶۰)اور اسی طرح قرآن پاک میں  رب العلمین نے   اصحاب کہف کے بارے میں فرمایا: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى(۱۳)وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا} وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انھیں مزید رہنمائی بخشی(۱۳)اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کردیا جب انہوں نے کھڑے  ہو کر اعلان کیا کہ: "ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور الٰہ کو نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو یہ ایک بعید از عقل بات ہوگی" (الكهف :۱۳-۱۴)۔
نوجوان ہی  امت کا سرمایہ، اور مستقبل کے معمار ہیں، اسلام نے انہیں بہت اہمیت دی ہے، یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالی  اپنا سایہ نصیب فرمائے گا، جس دن اس کے سایے کے علاوہ کسی کا سایہ نہیں ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ان میں ایسا نوجوان بھی ہے جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھے بھی  شامل ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ملک عزیز بھارت میں آبادی کے لحاظ سے نوجوانوں کی تعداد تقریبا نصف ہے اس عظیم الشان مگر خستہ جاں ملک کی سواسو کروڑ آبادی میں سے ۴۰ فیصدی سے زیادہ آبادی کا ایچ گروپ ۱۵ سے ۳۰ سال کے درمیان ہے اور یہ تاریخی سچائی ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والی بڑی بڑی انقلابی تحریکوں میں نوجوانوں ہی نے اہم کرداع ادا کیا ہے اور سماج کی تعمیر نو میں طلبہ و نوجوانوں نے اہم رول نبھایا ہے وہ ایک نوجوان طالب علم ہی تھا جوکہ مادّی وسائل سے تہی دست ہونے کے باوجود جب اس نے علم کی وادی میں قدم رکھا تو مصلح الامّتہ سرسید احمد خاں کہلایا وہ بھی ایک نوجوان طالب علم ہی تھا کہ جس نے سائنس کی پرخاروادی میں قدم بڑھایا اے پی جے عبدالکلام کہلایا اوع وہ بھی ایک سراپا صبر و استقلال، بلند ہمّت نوجوان طالب علم ہی تھا جو کشمیر کی شورش زدہ سر زمین سے نمودار ہوا اور شاہ فیصل بن کر چمکا ، اور اس طرح کی ہزاروں مثالیں جو نوجوانوں کی اولوالعزمی کی داستان بن کر تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی سچی لگن اور محنت و مجاہدہ سے انقلاب عالم اور سماج کی تعمیر جدید میں اہم کردار اداکیا بالکہ اگر یہ کہاجائے کہ سماج کی تعمیر نو  نوجوان کی حصہ داری کے بغیر ممکن ہی نہیں تو میرے خیال سے یہ بااکل برحق بات ہوگی 
کیونکہ نوجوانی عمر کی وہ بہار ہے_جوگلشن دہر کو معطر کرسکتی ہے
نوجوانی توانائی کا وہ ذخیرہ ہے_جو مشکل ترین کاموں کو سہل تر کرسکتی ہے
نوجوانی وہ سیل رواں ہے_ جو ہربندش باطل کو توڑ کر اپنا راستہ بناسکتی ہے
نوجوانی وہ نغمئہ بلند آہنگ ہے_ جو شور باطل کو خاموش کرسکتی ہے
اور نوجوانی وہ آگ بھی ہے جس کا اگر صحیح استعمال ہو تو تارییکیوں سے لڑنے اور اندھیروں کو بھگانے کی صلاحیت کا نام ہے لیکن اگر غلط ہاتھوں میں پڑجائے تو آبادیوں اور معاشروں کو غلط کاریوں سے جلانا اور تباہ کرنا اس کا کام ہے۔
یہ امربھی غور طلب ہے کہ بغیر شعور و آگہی کے افراد کا مجموعہ قوم نہیں بھیڑوں کا وہ ریوڑ ہے جس کا کوئی گلہ بان نہیں ،گھوڑوں کا وہ غول ہے جس کا کوئی عنان گیر نہیں ، اونٹوں کا وہ خاندان ہے جس کا کوئی ساربان نہیں اور وہ منھ زور دریا ہے جس کی کوئی سمت نہیں، کوئی رخ نہیں اس بناء پر صرف یہ کہاجانا کہ نوجوان سماج کی تعمیر نو میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں میرے خیال میں قطعا یہ ناقص گفتگو ہوگی بالکہ یوں کہنا ضروری ہے کہ فکر صحیح اور شعور س آگہی سے مزین نوجوان برادری کی قربانیوں اور مجاہدات سے سماج کی تعمیر نو ہوسکتی ہے  اور انہی نوجوانوں کی محنت شاقہ سے قوم و سماج سرخ رو ہوسکتا ہے یقینا طلبہ ہی مستقبل کے لیڈر اور معمار ملک و ملت ہیں اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے ہی نوجوانوں کے عزم و استقلال نے ہی ہردور اور ہرزمانہ میں انقلاب برپا کیا ہے ۔لہذا آج سماج کی تعمیر نو کے لئے ضرورت ہے ان شاہین صفت نوجوانوں کی جن کے بازو پردم ہوں اور ان کے ذہنوں اور دلوں میں خطرۂ افتاد نہ ہو، جو عیش پرست، بے راہ روی، فکری گمرہی کے شکار اور منشیات کے عادی نہ ہوں،جو خود آگاہ بھی ہوں  اورخدا آگاہ بھی ہوں، جو ایک طرف اپنی روشن تابناک ماضی سے واقف ہوں اور ماضی کی عبقری شخصیات کے جہد مسلسل، عمل پیہم سے سبق حاصل کرنے والا ہوں تو دوسری طرف حال اور وقت موجود کے تقاضوں سے بھی پوری طرح باخبر ہوں نوجوانوں کی اہمیت کے پیش نظر شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے  نوجوانوں کو "شاہین" قرار دیا شاہین کا استعارہ دراصل نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر عمل پر ابھارنا تھا چونکہ شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جس میں بلند پروازی، دور اندیشی اور خودداری جیسی صفات پائی جاتی ہیں۔ علامہ اقبال یہی سا ری خصوصیات نوجوانوں میں چاہتے تھے 
علامہ اقبالؒ کا زور اس بات پر بھی تھا کہ اپنے آپ کو پہچان جان جائیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جز ہیں اور اپنی قابلیت کا درست استعمال کریں۔ علامہ اقبالؒ کے یہاں ناامیدی ، محرومی، مایوسی، بزدلی اور کم ہمتی وغیرہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی بلکہ یقین محکم، عمل پیہم، بلند حوصلگی اولوالعزمی، ثابت قدمی اور بلند پروازی کا تصور انکے دماغ میں موجزن تھا۔ اور یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اس کی منزل مقصود تک پہنچاتی ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے ہی اپنے شاہین کی بابت کہاکہ  
وہی جوان ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری۔

abdupghani630@gmail.com
9931222982

Ads