قرآن و احادیث کی واضح تعلیمات ہیں کہ ’’والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں تو انھیں اُف نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان سے ادب و احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کرو کہ پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انھوں نے رحمت وشفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو ایسے سب لوگوں کیلئے درگزر کرنے والا ہے اور جو اپنے قصور پر متنبہ ہوکر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت 24، 25 ، 26)۔
قرآن مجید میں کئی جگہ اس سے ملتی جلتی ہدایات اور احکامات دیئے گئے ہیں اور حدیثیں تو بہت ساری ہیں جن میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ ماں باپ کے ہاتھ میں جنت بھی ہے اور دوزخ بھی۔
(1 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو، اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو، اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو یعنی وہ ذلیل ہو۔ پوچھا گیا کہ کون اے اللہ کے رسولﷺ؟ فرمایا جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا۔ ان مٰں سے ایک کو یا دونوں کو اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا۔
(2 ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کی رضا مندی کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ٹھہرایا اور باپ کی ناراضگی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قرار دیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے‘‘۔
(3 اور پھر والد کی نافرمانی کو نہ صرف اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ والد کی نافرمانی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا میں ہی اس کی سزا نہ دے دی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمام گناہوں میں سے جس کو چاہے گا معاف فرمائے گا مگر والدین کی نافرمانی کو معاف نہیں فرمائے گا۔ ممکن ہے کہ وہ نافرمان کو موت سے پہلے زندگی میں ہی سزا دے ڈالے‘‘۔
ان احادیث کے علاوہ عام طور پر مسلمانوں کو معلوم ہے کہ ایک نوجوان سے مرتے وقت زبان سے کلمہ نہیں نکل رہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر دی گئی تو آپؐ نے اس کی ماں سے پوچھا کہ کیا تمہارا بیٹا تمہاری نافرمانی کرتا تھا۔ ماں نے جواب دیا کہ میرا بیٹا میرے بڑے کام آتا تھا مگر اس کا ایک ہی قصور تھا کہ وہ مجھ پر اپنی بیوی کو ترجیح دیتا تھا جس کی وجہ سے میں اس سے ناخوش ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں سے کہاکہ اپنے بیٹے کو معاف کر دو۔ جب ماں انکار کرتی رہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لکڑی لاؤ اور اسے جلاکر نوجوان کو اس میں پھینک دو۔یہ کہنا تھا کہ ماں کی محبت جاگ گئی اور اس نے اپنے بیٹے کو معاف کردیا۔ جب اس نے معاف کردیا تو بیٹے کے منہ سے کلمہ نکلا اور دم توڑ دیا۔ یہ سچا واقعہ ہے، حدیث کی کتابوں میں نوجوان کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ ان تعلیمات کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے ماں باپ کے کام نہیں آتے۔ ان کی لافانی خدمات کو فراموش کردیتے ہیں۔ ان کے ساتھ بے جا سلوک کرتے ہیں۔ ان کا جینا حرام کردیتے ہیں، بسا اوقات ان کو اپنے گھر سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اور دنیا میں ہی اپنے نام دوزخ میں رجسٹر کرالیتے ہیں۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے بدقسمت بیٹے کو دنیا میں بھی سزا ملتی ہے اور آخرت میں سخت ترین عذاب کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔ اس کی شاید کئی وجہیں ہوتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت میں وہ اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ انھیں ماں باپ کی عظمت اور بزرگی یاد نہیں رہتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بیوی بچوں کی محبت میں اس طرح سے مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ماں باپ ان کی نظروں میں ہیچ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ انھیں نہ دنیا میں ہونے والی سزا کا یقین ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونے والا ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ کر رہے ہیں وہی کہانی دہرائی یا پڑھی جائے گی جو کہانی وہ اپنے بیٹے اور بیٹوں کے سامنے لکھ رہے ہیں۔ پڑھنے والے یا دہرانے والے ان کے بیٹے ہی ہوں گے کوئی دوسرا نہیں اور نہ انھیں آخرت کی سزا کا ڈر ہوتا ہے۔
آج کے نظام تعلیم میں ایسی چیزیں داخل نہیں کی گئی ہیں کہ ماں باپ بھی کوئی چیز ہیں۔ عصری نظام تعلیم کی خرابیاں بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ’فیس بک‘ میں ایک صاحب نے پوسٹ کیا ہے کہ تین عورتیں بالٹی اور رسی لے کر کنویں سے پانی بھرنے گئیں۔ اتنے میں ایک لڑکا وہاں سے گزرا۔ ایک عورت نے کہا :جانتی ہو یہ میرا بیٹا ہے۔ ڈاکٹری پڑھ رہا ہے۔ دوسرا ایک لڑکا گزر رہا تھا کہ دوسری عورت نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، انجینئر نگ میں پڑھ رہا ہے۔ دونوں لڑکے اپنی ماؤں سے مخاطب ہوئے بغیر چلے گئے۔ تیسرا لڑکا اتفاقاً آگیا، ماں کو پانی بھرتے دیکھا تو فوراً ماں کے پاس آیا اور ماں سے رسی اور بالٹی لے کر پانی بھرنے لگا اور پھر رسی کے ساتھ پانی بھری بالٹی لے کر چلنے لگا۔ اس کی ماں نے کہا: جانتی ہو، یہ میرا بیٹا ہے، مدرسے میں پڑھتا ہے۔ جنھیں لوگ اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں کہتے ہیں ایسے ڈگری یافتہ حضرات ماں باپ کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com

