Masarrat
Masarrat Urdu

گول روٹی سے وومن ڈے تک

Thumb


گذشتہ کئی ماہ قبل ایک عورت کے گول روٹی نہ بنانے پر شوہر کی جانب سے شدید تشدد کی خبر جب میڈیا پر پھیلی تو دنیا بھر میں بسی عورتیں اس خبر پر نہ صرف رنجیدہ ہوئیں بلکہ شدید احتجاج کرکے اُن مردوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو عورت کو صرف گھر کے باورچی خانے سے خواب گاہ تک کے لیے جیون ساتھی بنا کر لائے ہوتے ہیں۔ 
اس گول نہ ہونے والی روٹی نے عورت کو ظلم و تشدد کے خلاف آواز اٹھانے میں بہت مدد کی۔ اس نے کئی عورتوں اور لڑکیوں میں یہ شعور بیدار کیا کہ زندگی میں اُن کا کام گول روٹی بنانے سے زیادہ زندگی کے بنیادی محور یعنی زندگی کی اہمیت اور اپنی ذات کا احترام قائم کرنا ہے۔ یہ احترام گول یا چوکور روٹی بنانے سے حاصل ہونے والا نہیں بلکہ یہ علم و تربیت حاصل کرنے اور بحیثیت انسان مساوی بنیادی حقوق  کی ادائیگی اور حصولی میں پوشیدہ ہے۔ کئی خواتین کو یہ شعور ایک گول روٹی کے زریعے ملا اور کئی خواتین اس گول روٹی کو لے کر تنقید کا نشانہ بھی بنیں۔ 


آٹھ مارچ دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین کے دن سے منسوب ہے۔ کئی لوگ اس دن کی اہمیت کو یہ کہہ کر مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورت تو ہمارے مذہب میں یا ثقافت و تاریخ میں بہت معزز و معتبر رہی ہے اور اس کا احترام سارا سال ہی کیا جاتا ہے لیکن یوں ایک دن “ وومن ڈے “ منانے سے عورتوں خاص طور پر لڑکیوں میں آزادی کا غلط تصور ابھر رہا ہے ، وہ “ میرا جسم ، میری مرضی “ جیسے نعروں کو بلند کرکے اپنا وقار مجروح کر رہی ہیں۔ یہاں میں اُن لوگوں کو اس گول روٹی کی مثال دونگی جو اپنی تخلیق کار کے ہاتھوں گول نہ بننے کی وجہ سے ایک مرد کی جانب سے اس کی تضحیک کا باعث بنی اور اس کی جسمانی اذیت عزت نفس پر حملے کا سبب بنی۔ جن معاشروں میں انسان اپنا احترام اور وقار مجروح ہوتا دیکھتا ہے یا سہتا ہے وہاں اس قسم کی تحریک کا ابھرنا اور عالمی سطح پر دوام پانا ایک عام سی بات ہے۔ عورت کو اگر دنیا کے کسی بھی ملک میں زبانی و جسمانی تشدد کا نشانہ نہ بنایا گیا ہوتا اور اس کے بنیادی حقوق ضبط کرکے اس کی معاشرے میں تضحیک اور عزت نفس پر حملہ نہ کیا گیا ہوتا یا اسے بکاؤ مال یا اس کی تشہیر نہ بنایا گیا ہوتا، یا اسے مذہب اور روایات کی بھینٹ نہ چڑھایا گیا ہوتا یا اسے بنیادی انسانی حقوق کی حصولی اور انصاف کی تقسیم میں نصف سے بھی کم کا حقدار نہ بنایا یا اسے زندہ درگور کرنے کی تاریخ نہ لکھی گئی ہوتی یا مرد کی نام نہاد غیرت پر قتل نہ کیا گیا ہوتا یا اس کے سرے سے اس کے حقوق ہی غصب نہ کئے گئے ہوتے تو وہ اپنی بیٹی کو اپنی بقا سے زیادہ کسی اور چیز پر زندگی کی ساری توجہ مرکوز کرنےکی  تربیت  نہ دیتی۔ اس کے نذدیک گول روٹیاں بنانا، حجاب و لباس میں خود کو مردوں کی قاتل نگاہ سے بچانا، اپنے حقوق اور اپنی جان کو گھر و خاندان پہ نثار کرنا اپنے باپ و بھائیوں سے لے کر اپنے بیٹے اور دیگر مردانہ رشتوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے پر خاموش رہنا اور سڑکوں و بازاروں میں اپنے مقدس رشتوں کو گالی کی صورت میں سن کر برداشت کرنا اپنی زندگی کا مقصد محسوس نہیں ہوتا۔ 
مشرق اور برصغیر کے معاشرے میں یورپ و مغرب کی عورت مادر پدر آزاد مانی جاتی اور اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ عالمی یوم خواتین کی تحریک چلانے والے اور عورتوں کو گمراہ کرنے والے ہیں۔ لیکن آج یہاں عورت جتنی بھی آزاد ہے یا خود مختار ہے اس سہرا بھی اس گول روٹی ہی جیسی کسی کمزور شئے پر ہے جس نے عورت کو گھر کے باورچی خانے اور مرد کےگرم بستر سے نکال کر اسے یہ شعور دیا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اور دنیا کے مہذب معاشرے میں عورتوں اور مردوں کی بنیاد پر حقوق و فرائض کی ادائیگی مساوی سطح پر ہوتی ہے۔ گھر چلانے کے لیے میاں بیوی کو گاڑی کے پہئے کی مثال دینے والے شاید اس بات سے واقف ہوں کہ گاڑی کے پہئے ایک جیسی ہئیت اور خاصیت رکھتے ہوں تو ہی گاڑی کو زندگی کے ہموار یا ناہموار راستوں پہ چلا سکتے ہیں۔ اگر آج کی عورت اپنے وجود کے احساس سے بیدار ہوکر اور انسانی حقوق کی منصفانہ تقسیم کے لیے آواز بلند کرتی ہے تو اس میں یقیناً قصور کسی ایسے شخص کا ہی ہے جس نے روٹی بنانے پر اس کا شکریہ ادا کرنے ، حوصلہ بڑھانے اور اس کو اس روٹی میں نصف حصہ پیش کرنے کے بجائے اس کی گولائی پر اسے تنقید و تشدد کا نشانہ بنایا۔ 
“ عالمی یومِ خواتین “اُن تمام انسانوں کو مبارک جو معاشرے میں بلا تخصیص انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ زندگی میں استحکام اور انصاف کے خواہاں ہیں ۔

محترمہ عشرت معین سیما کی فیس بک وال سے شکریے کے ساتھ 

Ads