اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام’ من کی بات‘ میں وزیراعظم نے ایک ویڈیو کا ذکر کیا جس میں مختلف ٹیمیں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی جانب سے منعقدہ ڈرون مقابلے میں مریخ جیسے حالات میں ڈرون اڑانے کی کوشش کرتی نظر آرہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بغیر سیٹلائٹ اور جی پی ایس سسٹم کے ملاح سمندر کی لہروں کا سامنا کرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچ جاتے تھے اور آج دنیا کے ممالک سمندر سے آگے بڑھ کر خلاء کی بے انتہا بلندیوں کو ناپ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقابلے میں نئی نسل کی ٹیمیں جب ڈرون اڑا رہی تھیں تو ڈرون کبھی اڑتے، کچھ دیر تک متوازن رہتے اور پھر اچانک زمین پر گر پڑتے۔ ڈرون کو اپنے کیمرے اور اندرونی سافٹ ویئر کی مدد سے خود ہی اڑنا تھا اسے زمین پر نمونوں کی شناخت کرنی تھی ، بلندی ناپنی تھی، رکاوٹیں سمجھنی تھیں اور خود ہی محفوظ لینڈنگ کا راستہ تلاش کرنا تھا۔اس مقابلے میں پونے کے نوجوانوں کی ایک ٹیم نے کچھ حد تک کامیابی حاصل کی۔ ان کا ڈرون بھی کئی بار گرا اور کریش ہوا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ کئی کوششوں کے بعد یہ ڈرون مریخ جیسی صورتحال میں کچھ دیر تک اڑنے میں کامیاب ہو گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح چندریان-2 کے رابطہ منقطع ہونے کے بعد وقتی مایوسی سے نکل کر ہمارے سائنس دانوں نے چندریان-3 کی شاندار کامیابی حاصل کی، ویسی ہی چمک انہیں اس ویڈیو میں نوجوانوں کی آنکھوں میں دکھائی دی۔
انہوں نے کہا، "جب بھی میں ہمارے نوجوانوں کی لگن اور سائنس دانوں کی محنت دیکھتا ہوں میرا دل جوش سے بھر جاتا ہے۔ نوجوانوں کی یہی لگن ایک وکست بھارت کی بہت بڑی طاقت ہے۔"
