چین، روس اور شمالی کوریا کے سربراہان پہلی مرتبہ ایک ساتھ بیٹھ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہےجب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مغربی رہنما اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ میں پوتن اور ِکم کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ چین مغربی غلبے والے عالمی نظام کو ازسرنو متعین کرنا چاہتا ہے۔
اس اجلاس سے ایک نئے سہ فریقی اتحاد کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں خصوصاً جون 2024ء میں روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی معاہدے اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی روشنی میں یہ پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایشیا اور بحرالکاہل میں عسکری توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
شی جن پنگ نے کل امریکی سیاست اور دباؤ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اصل کثیرالجہتی کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے بعد تینوں رہنما تین ستمبر کو جنگ عظیم دوم کی یاد میں ہونے والی بڑی فوجی پریڈ میں شریک ہوں گے۔
یاد رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ابتدا میں وسطی ایشیا میں امریکی اثرورسوخ کے مقابلے کے لیے قائم کی گئی تھی، جو آج ایک وسیع اور بااثر پلیٹ فارم بن چکی ہے۔
