Masarrat
Masarrat Urdu

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی صورت میں مستعفی ہوجاوں گا، لبنانی آرمی چیف کی دھمکی

  • 30 Aug 2025
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

بیروت، 30 اگست (مسرت ڈاٹ کام) لبنانی فوج کے سربراہ نے مقاومت کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو براہ راست محاذ آرائی میں دھکیلنا غیر منطقی عمل ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی فوجی سربراہ نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر فوج کو اس عمل پر مجبور کیا گیا تو وہ استعفی دے دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق، فوجی قیادت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حزب اللہ کو براہ راست ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا غیر معقول ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ فوج اس عمل سے خوش نہیں ہے، اور بریگیڈیئر جنرل رودولف حیکل نے کسی بھی لمحے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی دھمکی دی ہے۔

اہلکار کے مطابق، فوجی سربراہ چاہتے ہیں کہ حکومت ایک جامع معاہدے کی کوشش کرے اور فوج کو حزب اللہ یا لبنان کی دیگر جماعتوں کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں نہ جھونکے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق لبنانی حکومت نے فوج کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ آئندہ اتوار تک ایک منصوبہ تیار کرے اور سال کے اختتام تک اس پر عملدرآمد کرے۔

امریکی ایلچی ٹام بیرک اور مورگن اورٹاگس نے رواں ہفتے لبنانی حکام کو حیران کر دیا جب انہوں نے کہا کہ فوج کے حزب اللہ کے اسلحے جمع کرنے کے منصوبے کا اعلان ہونے اور اس پر عملدرآمد شروع ہونے سے پہلے وہ اسرائیلی جارحیت میں کمی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

یاد رہے کہ لبنانی حکومت نے شیعہ وزراء کی مخالفت کے باوجود حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا اور فوج کو منصوبہ بندی کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔

دوسری طرف حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو پہلے جنوبی لبنان سے انخلا کرنا ہوگا اور اپنی جارحانہ کارروائیاں روکنی ہوں گی، اس کے بعد ہی ہتھیار ڈالنے پر کوئی بات چیت ممکن ہے۔ تاہم امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر لبنان نے فی الفور اس عمل کو آگے نہ بڑھایا تو نہ تو اسے مالی امداد ملے گی اور نہ ہی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بحال ہوں گے۔

Ads