Masarrat
Masarrat Urdu

اسنیپ بیک میکانزم کے سنگین نتائج برامد ہوں گے، عراقچی کا انتباہ

Thumb

تہران، 30 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزیرخارجہ نے یورپی ٹرائیکا کو متنبہ کیا ہے کہ سنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی صورت سنگین نتائج برامد ہوں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک مرتبہ پھر یورپی ٹرائیکا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی کوشش سنگین نتائج کا باعث بنے گی۔

عراقچی نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے یورپی ٹرائیکا نے ایرانی عوام پر دباؤ بڑھانے کا بدنیتی پر مبنی فیصلہ کیا ہے۔ یہ حماقت غیر اخلاقی، بلاجواز اور غیر قانونی ہے جس کے بارے میں ایران پہلے ہی سخت انتباہ دے چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ اسنیپ بیک میکانزم اسے کسی ایک میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے گا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے یورپ کو یوکرائن سمیت تمام عالمی مسائل میں نظرانداز کر دیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات جاری رکھنے کی صورت میں یورپی ٹرائیکا ہمیشہ کے لیے بے اثر قوت بن جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی مؤقف کو غیر ذمہ دارانہ اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک اب اس اقدام کو سفارتکاری کو آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

عراقچی نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی ہے۔ رواں سال ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پانچ دور کے مذاکرات کیے اور چھٹے دور سے قبل ایران کو پہلے اسرائیل اور پھر امریکہ کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اب یورپ کا یہ دعوی کہ ایران مذاکرات سے بھاگ رہا ہے، نہایت ہی گمراہ کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل قصوروار امریکہ ہے جس نے 2018 میں یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور پابندیاں دوبارہ عائد کیں۔ اسی طرح یورپ نے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، نہ ہی امریکہ کے انخلا کے بعد اقتصادی نقصانات کم کرنے کے وعدے پر عمل کیا اور نہ ہی اکتوبر 2023 کے "ٹرانزیشن ڈے" پر اپنی قانونی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس کے برعکس، یورپ نے ایرانی سول ایوی ایشن اور شپنگ انڈسٹری پر نئی غیر قانونی پابندیاں عائد کر دیں۔

عراقچی نے خبردار کیا کہ یورپی اقدام سفارتکاری پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گا اور ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان جاری مذاکرات کو بری طرح متاثر کرے گا۔ اس روش کے تسلسل نے ایران کو مناسب جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپ اس طرح کے اقدامات سے باز نہ آئے تو اس کے نہ صرف ایران و مغرب کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کو بھی شدید خطرہ ثابت ہوں گے۔

عراقچی نے کہا کہ بغیر قانونی جواز کے اسنیپ بیک میکانزم کا سہارا لینا نہ صرف سلامتی کونسل کے فیصلوں پر اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ عالمی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ کونسل اور دنیا سب مل کر کہیں: "بس بہت ہو گیا"۔

Ads