Masarrat
Masarrat Urdu

اسرائیل کا غزہ شہر پر بمباری میں اضافہ، مزید 50 افراد شہید

  • 29 Aug 2025
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

غزہ، 29 اگست (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے شہریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے، قابض فوج نے نہتے شہریوں کو شہید کرنے میں تیزی دکھانا شروع کر دی۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ذرائع سے رپورٹ کیا ہےکہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرقی اور جنوبی علاقوں پر شدید بمباری تیز کردی ہے، جس کے نتیجے میں جمعرات کی صبح سے غزہ بھر میں کم از کم 50 افراد شہید ہوگئے ہیں، جن میں 12 امداد کے متلاشی بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کر رہی ہے، جو اس علاقے کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے، باوجود اس کے کہ، عالمی سطح پر اسرائیل کی اس کارروائی کیخلاف نظرثانی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

اسرائیلی کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور پناہ حاصل کرنے والے تقریبا 10 لاکھ فلسطینیوں کی مزید بے دخلی کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل کی اس فوجی مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جنگ میں نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ شہر میں فوجی کارروائی کے پھیلاؤ کے تباہ کن نتائج ہوں گے، لاکھوں عام شہری، جو پہلے ہی تھکن اور صدمے کا شکار ہیں، ایک بار پھر بے گھر ہونے پر مجبور ہوں گے اور مزید خاندانوں کی زندگیاں خطرے میں آئیں گی، یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔

غزہ شہر میں مکینوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ خاندان اپنے گھروں سے نکل کر ساحل کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی افواج شجاعیہ، زیتون اور صبرا کے محلوں پر بمباری کر رہی ہیں۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق زیتون کے جنوبی حصے میں کوئی عمارت باقی نہیں بچی، کیونکہ اسرائیلی فورسز نے زمینی آپریشن کے دوران 1500 سے زائد گھر تباہ کر دیے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے غزہ شہر کو حماس کا آخری گڑھ قرار دیا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ نے اطلاع دی کہ جمعرات کو غزہ بھر میں شہید ہونے والوں میں ایک عورت اور اس کا بچہ بھی شامل ہے جو خان یونس میں بے گھر افراد کے کیمپ میں ایک خیمے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

اسی دوران اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کی کہ جبری گمشدگیوں کا نشانہ وہ فلسطینی بن رہے ہیں جو بھوک کے باعث امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے امدادی مراکز پر خوراک کے حصول کے لیے جاتے ہیں، ماہرین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین جرم کو ختم کرے۔

7 آزاد ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کئی افراد، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، کو رفح میں امدادی مراکز پر جانے کے بعد زبردستی غائب کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھوک کے ستائے عام شہریوں کو خوراک کے حق کے حصول کے دوران جبری طور پر غائب کرنا نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ یہ تشدد کے مترادف ہے، خوراک کو اجتماعی گمشدگیوں کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا فورا بند ہونا چاہیے۔ اس کے جواب میں جی ایچ ایف نے کہا کہ اسے اپنے مراکز پر جبری گمشدگیوں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جی ایچ ایف نے کہا کہ ہم ایک جنگی علاقے میں کام کر رہے ہیں جہاں ہمارے مراکز سے باہر سرگرم تمام فریقین کے خلاف سنگین الزامات موجود ہیں، لیکن جی ایچ ایف کی مراکز کے اندر جبری گمشدگیوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

 

Ads