Masarrat
Masarrat Urdu

ایشیا کپ 2025 میں پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے پر آدتیہ ٹھاکرے کو سخت اعتراض

Thumb

ممبئی، 20 اگست (مسرت ڈاٹ کام)  شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما اور ایم ایل اے آدتیہ ٹھاکرے  نے  ایشیا کپ 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ممکنہ کرکٹ میچ کے سلسلے میں سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں آدتیہ  ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ بی سی سی آئی قومی مفاد پر آمدنی کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے لکھا:“خون اور پانی ساتھ نہیں بہہ سکتے، مگر بی سی سی آئی کے لیے خون اور آمدنی ساتھ ساتھ بہہ سکتے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت  کو خط لکھا ہے اور مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ بی سی سی آئی کے اس ’’شرمناک عمل‘‘ کو روکا جا سکے۔
آدتیہ ٹھاکرے نے اپنے خط میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان’’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کر رہا ہے تو ایسے وقت میں پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا قومی جذبات کی توہین ہے۔ انہوں نے خاص طور پر حالیہ پہلگام دہشت گرد حملے کا ذکر کیا جس میں کئی بے گناہ افراد مارے گئے  تھے۔ مسٹرٹھاکرے نے الزام لگایا کہ بی سی سی آئی کا یہ فیصلہ صرف مالی فائدے کی لالچ میں کیا گیا ہے جو مسلح افواج اور قوم کے وقار کے خلاف ہے۔
مسٹرٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اُس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں پلوامہ حملے کے بعد لال قلعہ سے کہا گیا تھا کہ ’’خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی کے فیصلے نے ہندوستانی فوج کی قربانیوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ “اگر بی سی سی آئی سمجھتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے اعلان سے بھی بڑا ہے، تو یہ واقعی باعثِ شرمندگی ہے۔”
آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اراکین پارلیمنٹ کو مختلف ممالک میں بھیجتا رہا ہے، لیکن کرکٹ بورڈ کا یہ فیصلہ ان کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے این سی ای آر ٹی  کی درسی کتابوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں میں واضح ہے کہ دہشت گرد پاکستان سے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ “شاید پہلے بی سی سی آئی کے عہدیداران کو یہ کتابیں پڑھنی چاہئیں۔”
مسٹرٹھاکرے نے کہا، “حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کہ پلوامہ کے پیچھے پاکستان تھا، بی سی سی آئی محض پیسہ کمانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کا موقع نہیں چھوڑتا۔”
مسٹرٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ان کی پارٹی اس وقت اپوزیشن میں ہے، لیکن قومی مفاد اور ملک کی سلامتی کے معاملےپر وہ ہمیشہ متحد رہی ہے۔ انہوں نے شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے  کے بیان اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت بند نہیں کرتا، اُس وقت تک اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔
یہ تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب  اے آئی ایم آئی ایم  کے رہنما اسدالدین اویسی نے بھی اس میچ کی مخالفت کی اور پارلیمنٹ میں حکومت سے سوال کیا کہ جب تجارت اور سفارتی تعلقات بند ہیں تو کرکٹ کیسے کھیلی جا سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ دوسری جانب، بی سی سی آئی نے اب تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا۔

Ads