Masarrat
Masarrat Urdu

’’ازواجِ مطہراتؓ کی زندگیاں ۔خواتین کیلئے بہترین نمونہ‘‘ کا خلاصہ

  • 07 Aug 2018
  • عابد انور
  • مذہب

سر زمین اعظم گڑھ سیرت النبیؐ کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ اس سر زمین پر ہر سال امہات المومنینؓ کی سیرت پر سمینار کا انعقاد اور پورے ملک سے دانشوروں کی شرکت اور ازواج مطہرات کی زندگیوں کے ہر پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرنا ایک ایسا کام ہے جو ہر لحاظ سے قابل قدر اور قابل ستائش ہے۔ سیرت النبیؐ کے حوالے سے جس طرح اعظم گڑھ کا نام پوری دنیا میں روشن ہوا تھا اب سیرت امہات المومنینؓ کے حوالے سے انشاء اللہ اعظم گڑھ کا نام نامی مشہور و معروف ہوگا بلکہ ہورہا ہے۔ سیرت امہات المومنینؓ کے تعلق سے ڈاکٹر محمد طاہر کی مساعی لائق تحسین ہے۔ اللہ کرے وہ اس کام میں اپنی زندگی کے آخری لمحے تک لگے رہیں اور ان کے رفقاء کار ان کا حوصلہ بڑھاتے رہیں۔ 
ہم نے اس سمینار کیلئے جو مقالہ لکھا ہے وہ کئی صفحات پر مشتمل ہے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے مقالہ کی چند باتیں ہی پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔ 
پہلی بات تو اس مقالہ میں ہم نے یہ بتائی ہے کہ جس کی تعلیم و تربیت دنیا کی سب سے بڑی اور مبارک ہستی نے کی ہو اس کی سیرت کا عظیم یا غیر معمولی ہونا تعجب خیز یا حیرت انگیز نہیں بلکہ حسب توقع اور حسب معمول ہے۔ 
قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کس قدر فقیرانہ اور درویشانہ تھی۔ اقتدار ہاتھ آنے کے بعد بھی آپ کی زندگی فقیرانہ رہی۔ سادگی زندگی کا وطیرہ رہا۔ اسی زندگی کو آپ نے امہات المومنینؓ کیلئے بھی پسند فرمایا۔ ایک دوبار جب امہات المومنینؓ نے بشری تقاضے کے تحت اپنی زندگیوں میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی تو اللہ کا جو حکم اس سلسلے میں آیا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سنایا اور کہاکہ اگر دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ تمہیں کچھ دے دلاکر رخصت کردوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کیلئے بڑا اجرمہیا کر رکھا ہے۔ 
سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو کی اور انھیں اپنے والدین سے مشورہ کرنے کیلئے کہا اور یہ بھی کہاکہ جواب دینے میں جلدی نہ کرو۔ حضرت عائشہؓ نے فوراً عرض کیا ’’کیا اس معاملہ میں اپنے والدین سے پوچھوں یا رائے لوں۔ میں تو اللہ، اس کے رسولؐ اور آخرت کو چاہتی ہوں‘‘۔ بالکل یہی جواب دیگر ازواج مطہرات نے دیا۔ 
ازواج مطہراتؓ کا جواب صاف بتارہا ہے کہ اللہ کے رسول جس زندگی اور حیات کے طالب ہیں اسی حیات اور زندگی کو ازواج مطہرات نے پسند کیا۔ ان کے نزدیک دنیا کی خوشحالی نہیں بلکہ دنیا اور آخرت کی فلاح و کامیابھی تھی۔ دنیا کی کامیاب زندگی وہی ہوتی ہے جو اللہ کی خوشنودی اور رضا کے مطابق ہو۔ جو زندگی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے مطابق نہیں ہوتی وہ آخرت میں شدید ترین عذاب کی مستحق ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ازواج مطہراتؓ کی زندگیاں اللہ کی مغفرت اور حصولِ جنت کی سعی اور جدوجہد میں گزریں جو دنیا کی تمام خواتین کیلئے غیر معمولی اور بہترین نمونہ ہے۔ اس کے بعد رسول اکرمؐ کی خانگی زندگی پر روشنی ڈالی ہے اور مستشرقین اسلام کے اعتراضات کا مدلل جواب دیا ہے۔ 
احادیث شریف اور قرآن مجید میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کی جو باتیں آئی ہیں ان سے کون نہیں سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیک، متقی اور پاکباز بیویوں نے کس صبر و شکر کے ساتھ فقر وفاقہ اور تنگ حالی کے باوجود آپؐ کے ساتھ زندگی کے دن گزارے اور تعلیم و تربیت حاصل کرکے امت مسلمہ میں نہایت اونچا مقام حاصل کیا اور امہات المومنین خاص طور سے حضرت عائشہؓ، حضرت ام سلمیٰؓ ، حضرت حفصہؓ اور حضرت میمونہؓ کا حصہ اسلام کی اشاعت و تبلیغ اور امت مسلمہ کی خدمت اگر مردوں سے زیادہ نہیں تو ان سے کم بھی نہیں۔ عورتوں سے متعلق نبی اکرمؐ کی تعلیمات زیادہ تر انھیں سیدات کے ذریعہ پھیلی ہیں اور پھیل سکتی تھیں۔ 
جو لوگ قرآن و حدیث اور سیرت رسولؐ کا مطالعہ کے بغیر معاندین اسلام کی الٹی سیدھی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی صف میں آسانی سے شامل ہوجاتے ہیں۔ انھیں تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی بنانے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ وہ اسلام کے دشمنوں کے چہیتے ہوجاتے ہیں۔ اچھے داموں میں ان بکاؤمال کو خرید لیا جاتا ہے پھر ان کیلئے واپسی کا کوئی امکان (No Point of Return) نہیں رہتا۔ اگر کبھی کسی کے سمجھانے بجھانے سے ایسے لوگ اپنی راہ بدلنا چاہتے ہیں تو دشمنانِ اسلام ان کیلئے سد راہ بن جاتے ہیں پھر یہ مسلمانوں کے نئے دشمن پرانے دشمنوں سے بدتر ہوجاتے ہیں۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے بجھانے کی ساری تدبیریں اور کوششیں لا حاصل ہوجاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے اعتراضات کرنے والے اپنے ذہن میں ازدواجی زندگی کا صرف شہوانی تصور ہی رکھتے ہیں۔ ان کے پست ذہن اتنی بلندی تک جاہی نہیں سکتے کہ اس عظیم انسان کے مقاصد ازدواج کو سمجھ سکیں جو ایک اعلیٰ و ارفع کام کی مصلحتیں مد نظر رکھ کر کچھ خواتین کو اپنی شریک زندگی اور شریک کار بنائے۔ 
علم حدیث کا جس شخص نے بھی مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے ذریعہ سے جتنا علم دین مسلمانوں کو پہنچا اور فقہ اسلامی کی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس کے مقابلہ میں عہد نبوت کی عورتیں تو درکنار، مرد بھی کم ہی ایسے ہیں جن کی علمی خدمات کو پیش کیا جاسکے۔ اگر حضرت عائشہؓ حضورؐ کے نکاح میں نہ آتیں اور آپؐ سے تعلیم و تربیت پانے کا ان کو موقع نہ ملتا تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام کے علم کا کتنا بڑا حصہ امت مسلمہ تک پہنچنے سے رہ جاتا۔
آخر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی علمی فضیلت کا مختصر ذکر کیا ہے کہ کس طرح وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرکے اپنے علم کی پیاس بجھاتی تھیں، جس سے خلق خدا کو آج تک فائدہ پہنچ رہا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے اپنی سوکنوں کے ساتھ کس کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا اور ان کی خوبیوں کا بغیر کسی تنگی کے بیان فرمایا جو خواتین کیلئے قابل تقلید ہے۔ 
مقالہ کا اختتام ان الفاظ میں کیا ہے: میرا خیال ہے کہ معاندین یا مستشرقین امہات المومنینؓ میں سے اگر حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زندگیوں کا گہرا مطالعہ کرلیں تو ان کی رائے میں غیر معمولی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔ مغرب یا مشرق کے دشمنانِ اسلام آج کے حالات میں اسلام پر یا ازواج مطہراتؓ پر محض اس لئے حملے کر رہے ہیں کہ اسلام ان کا فرضی دشمن ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے پھیلاؤ کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈے ہی سے روک سکتے ہیں؛ حالانکہ ان کا پروپیگنڈہ ان کے کام نہیں آرہا ہے۔ امریکہ یا یورپ یا دیگر ملکوں میں جہاں مسلمان عورتوں کو بے حیائی اور عریانیت کا درس دیا جارہا ہے، پردہ کے خلاف قانون بنایا جارہا ہے۔ حجاب، نقاب اور پردہ قابل جرم ہے۔ وہاں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ آغوش اسلام میں آرہی ہیں۔ اگر یورپ یا امریکہ میں پانچ افراد اسلام قبول کرتے ہیں تو ان میں سے تین خواتین ہوتی ہیں۔ کیا یہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کا بین ثبوت نہیں ہے؟ 
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com 

Ads