کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی کے انچارج اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن کنہیا کمار نیز این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب اراکین پارلیمنٹ کے لیے کثیر منزلہ رہائش گاہوں کا انتظام ہو سکتا ہے تو ملک کی یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے بھی محفوظ ہاسٹل بنائے جانے چاہئیں، تاکہ ستیہ نکیتن جیسے حادثات کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی کے ارد گرد بڑی تعداد میں طلباء خستہ حال نجی پی جی میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں سیفٹی کے معیار پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ 10 سال میں دہلی یونیورسٹی کے لیے ایک بھی ہاسٹل کیوں نہیں بنایا گیا۔ یونیورسٹی کی جن زمینوں کو شادی کی تقریبات کے لیے کرائے پر دیا جا رہا ہے، وہاں طلباء کے لیے ہاسٹل بنائے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ستیہ نکیتن میں طلباء عمارت گرنے سے دب کر مر رہے ہیں اور دوسری طرف ملک کے وزیر داخلہ گوا میں بی جے پی دفتر کا فیتہ کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے حادثے کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی اور ایم سی ڈی کمشنر کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹویٹ کرتے ہیں لیکن طلباء کی جان جانے کے واقعے پر ان کی حساسیت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کچھ لوگوں کو گرفتار یا معطل کر دینے سے ان خاندانوں کو ان کے بچے واپس نہیں مل سکتے، جنہوں نے انہیں کھویا ہے۔ کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی کے رہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے دہلی میں کرائے اور پی جی کے نظام کے تعلق سے واضح قانون بنانے نیز تمام پی جی کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بغیر سیفٹی کے معیار کے طلباء کو رہنے کی جگہ دے کر ان کی جان سے کھلواڑ نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حادثے کو 24 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزرنے کے باوجود ملبہ پوری طرح نہیں ہٹایا جا سکا اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس میں کتنے لوگ دبے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس انتظامیہ امداد اور بچاؤ کے ساتھ سچ چھپانے کا بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے حادثے کی ذمہ داری لینے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ متوفی طلباء کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ اور زخمیوں کو بہتر طبی سہولت دی جانی چاہیے۔ دہلی یونیورسٹی کے شمالی اور جنوبی کیمپس کے ارد گرد بڑی تعداد میں چل رہے نجی پی جی اور ہاسٹلوں پر انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں چلانے والوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، جس کی وجہ سے خستہ حال عمارتوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی تمام طلباء کے لیے ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے کی لڑائی جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حادثے کے وقت موقع پر کافی پولیس، میڈیکل ٹیم اور بچاؤ ٹیم موجود نہیں تھی نیز شروعات میں صرف ایک ایمبولینس موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی کے کارکنان موقع پر پہنچے اور ملبے میں دبے طلباء کی مدد کی۔ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے بائیکاٹ سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ یہ کانگریس کا کلچر نہیں ہے اس لیے این ایس یو آئی الیکشن لڑے گی۔
