Masarrat
Masarrat Urdu

صدر پوتین کا کیف پر تین دن تک فضائی حملے روکنے کا حکم، امن مذاکرات کی نئی امید

  • 05 Sep 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ماسکو، 5 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے یوکرین کے دورے سے عین قبل دارالحکومت کیف پر تین دن کے لیے ہر قسم کے فضائی حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کو بتایا کہ روس کے سپریم کمانڈر ان چیف صدر پوتین نے ہفتہ کی نصف شب سے شروع ہونے والے تین دنوں کے دوران یوکرین پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ نہ کرنے کی واضح ہدایت جاری کی ہے۔ مسٹر پیسکوف نے بتایا کہ یہ فیصلہ کیف میں ہونے والی امریکی مذاکراتی کوششوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتہ کے روز ماسکو پہنچے، جہاں صدر پوتین کے خصوصی نمائندے کیرل دمیترییف نے ونوکوو ہوائی اڈے پر امریکی وفد کا استقبال کیا۔ توقع ہے کہ صدر پوتین ہفتہ کے اواخر میں مسٹر وٹکوف اور مسٹر کشنر سے ملاقات کریں گے۔

ماسکو کے دورے کے بعد امریکی ایلچیوں کے اتوار کو کیف جانے کا پروگرام ہے۔ امریکہ کی ثالثی میں امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد امریکی نمائندوں کا یوکرین کے دارالحکومت کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل امریکی ایلچی 22 جنوری سمیت کئی مرتبہ ماسکو کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن انہوں نے اب تک کیف کا دورہ نہیں کیا تھا۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی ہے کہ وٹکوف اور کشنر ماسکو کے بعد اتوار کو یوکرین کا دورہ کریں گے۔ مسٹر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی ایلچیوں کے کیف پہنچنے سے عین قبل روس نے یوکرین کے دو ہوائی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

اس دوران صدر پوتین نے جنگ کے ممکنہ خاتمے کا اشارہ دیا، تاہم زور دیا کہ حتمی فیصلہ روس اور یوکرین کو ہی کرنا ہوگا۔ ولادی ووستوک میں ایسٹرن اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پوتین نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ امن کا ایک ’امکان‘ اب بھی موجود ہے۔ تاہم انہوں نے ایئر لائنز کو روسی فضائی حدود سے گریز کرنے کی وارننگ دینے پر کیف پر ’ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی‘ کا الزام بھی عائد کیا۔

مسٹر پوتین نے کہا کہ بالآخر اس مسئلے کا حل تنازع میں شامل دونوں ممالک روس اور یوکرین کو مل کر ہی تلاش کرنا ہوگا۔ یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت شروع ہوئی ہیں جب جنگ ختم کرنے کی امریکی اور یورپی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ روس اور یوکرین علاقائی خودمختاری، سلامتی کی ضمانتوں اور یوکرین کی مستقبل کی فوجی پالیسی کے معاملے پر ایک دوسرے سے بہت مختلف موقف رکھتے ہیں۔

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے متعدد دارالحکومتوں میں سیاسی اور سفارتی رابطوں کے اس فعال مرحلے کی واپسی کے ساتھ امن کی کوششوں میں ’نئی رفتار‘ پیدا ہوگی۔ دوسری جانب روس نے واضح کیا ہے کہ دو سال قبل ایک تقریر میں بیان کیا گیا صدر پوتین کا موقف ’اٹل‘ ہے۔

 

Ads