جاری ایک بیان کے مطابق مولانا مدنی نے کہا کہ سہارنپور کا واقعہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے، بلکہ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 1991میں جو ورشپ ایکٹ لایاگیاتھاوہ ابھی موجودہے ، انتظامیہ کی یہ کارروائی نہ صرف اس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے بلکہ جو نیاوقف قانون لایاگیاہے اس میں وقف بائی یوزرکی شق ہے یہ عمل اس کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اورمسجد کا وقف بورڈمیں اندارج ہے جس کانمبر451 ہے اہم بات یہ ہے کہ یہ زمین شروع ہی سے یعقوب خان اوروحید خان کے نام سے ہے ، اس کے باوجود کارروائی کہاں کا انصاف ہے ، انہوں نے یہ بھی کہاکہ''اگر غیر قانونی قبضہ اور تجاوز ہی کارروائی کا واحد معیار ہے تو پھر یہی معیار ہر مذہب، ہر طبقے کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔''مگراس طرح کے حیلوں اوربہانوں سے ایک مخصوص فرقہ کو ہی نشانہ بنایاجارہاہے ۔
مولانا مدنی نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں، عوامی مقامات اور دوسری جگہوں پر برسوں اور دہائیوں سے مذہبی تعمیرات موجود ہیں تو کیا ان تمام تعمیرات کے خلاف بھی انتظامیہ اسی عجلت، اسی سختی اور اسی پیمانے سے کارروائی کررہی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کسی ایک مذہبی مقام کے معاملے میں غیر معمولی سختی انصاف کے اصول پر سوال کھڑا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی مقام کی ملکیت یا زمین سے متعلق قانونی اختلاف کو عدالت میں طے کیا جاسکتا ہے، لیکن طویل مدت سے جاری مذہبی استعمال، تاریخی دستاویزات اور زمینی حقائق کو بھی قانون کے دائرے میں پوری سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔اس سلسلے میں مسجد کمیٹی کا مؤقف بھی اہم ہے۔ کمیٹی نے عدالت میں مختلف تاریخی دستاویزات پیش کئے گئے تھے، کہ مسجد کا وجود کلکٹریٹ کی موجودہ عمارت سے پہلے کا ہے۔
بعض رپورٹوں کے مطابق کمیٹی کی جانب سے 1911 سے متعلق دستاویزات، بلدیاتی ریکارڈ اور پرانے ریونیو اندراجات بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے۔مگر انہیں نظراندازکردیاگیا، انہوں نے آگے کہا کہ ایسی صورت میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی مقام پر ایک صدی سے زیادہ عرصے تک بلا تعطل نماز ادا ہوتی رہی ہو، نسل در نسل لوگ اسے مسجد کے طور پر استعمال کرتے رہے ہوں اور اس کے قدیم ہونے سے متعلق دستاویزی دعوے بھی موجود ہوں تو اس پوری تاریخی حقیقت کو محض ایک انتظامی تنازع کے طور پر دیکھنا کہاں تک مناسب ہے؟
مولانا مدنی نے کہا''یہ ملک کسی ایک مذہب یا کسی ایک طبقے کا نہیں ہے۔ ہندوستان ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام مذاہب و عقائد کے لوگوں کا مشترکہ وطن ہے۔ آئین نے کسی کو پہلے درجے اور کسی کو دوسرے درجے کا شہری نہیں بنایا۔ پھر انتظامیہ کے رویہ سے ایسا احساس کیوں پیدا ہوتاہے کہ مذہبی شناخت انصاف کے پیمانے پر اثرانداز ہورہی ہے؟''انہوں نے اخیرمیں کہا:''ہم حکومت سے کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے، ہم صرف مساوی انصاف مانگ رہے ہیں۔ ہمارا سوال بالکل سیدھا ہے: جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہی قانون ہر مذہبی مقام کے لیے کیوں نہیں ہے ؟ جو پیمانہ ایک مسلمان کے لیے ہے، وہی دوسرے شہری کے لیے کیوں نہیں ہے؟ آئین اورقانون اگر سب کئے لئے ہے تو اس کا تحفظ اور نفاذ بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔''
