Masarrat
Masarrat Urdu

عآپ نے پنجاب میں راگھو چڈھا کا ووٹ کٹنے پر کیا جوابی حملہ

Thumb

نئی دہلی، 03 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی (عآپ) نے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ راگھو چڈھا کا پنجاب میں ووٹ کٹنے کے تعلق سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے اٹھائے جا رہے سوالوں پر جوابی حملہ کیا ہے۔

عآپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے جمعرات کو صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر چڈھا پنجاب میں نہیں، دہلی میں رہتے ہیں، ایسے میں پنجاب میں ان کا ووٹ کیوں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت اگر کوئی شخص متعلقہ پتے پر نہیں ملتا ہے تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، راگھو چڈھا بھی متعلقہ پتے پر نہیں ملے اور ان کا نام کٹ گیا۔ مسٹر بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ دہلی میں مکان بدلنے والے بڑی تعداد میں لوگوں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے بات چیت میں پارٹی کو بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص برسوں سے ایک مکان میں رہ رہا تھا اور بعد میں پاس کے دوسرے مکان میں چلا گیا، تو نئے پتے کی وجہ سے اسے منتقل شدہ دکھایا جا سکتا ہے اور اس کا ووٹ کاٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر دہلی میں عام لوگوں پر یہی قانون نافذ کیا جا رہا ہے تو راگھو چڈھا کے معاملے میں بی جے پی اتنی تشویش کیوں ظاہر کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی میں ایس آئی آر سے پہلے کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں غریب ووٹروں کے نام متاثر ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ الگ الگ لوگوں کے لیے الگ الگ معیار کیوں اپنائے جا رہے ہیں۔ عآپ لیڈر نے راگھو چڈھا کے پرانے سیاسی موقف کا حوالہ دیتے ہوئے ان کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ راگھو چڈھا پہلے 'رائٹ ٹو ریجیکٹ' اور منتخب نمائندوں کو واپس بلانے کے حق کی بات کرتے رہے ہیں۔ مسٹر چڈھا کو اب اپنے اوپر بھی اسی اصول کو نافذ کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر چڈھا کو عام آدمی پارٹی کے ایم ایل ایز نے راجیہ سبھا بھیجا تھا اور پارٹی چھوڑنے کے بعد انہیں اخلاقی طور پر اس عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے جڑے معاملات میں سیاسی جماعتوں کے بجائے الیکشن کمیشن کو حقائق اور قوانین کی بنیاد پر صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ جمہوریت میں ہر ووٹر کے ووٹ کی مساوی اہمیت ہے اور ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا ہٹانے کا عمل شفاف اور یکساں قوانین کے تحت ہونا چاہیے۔

 

Ads