مسٹربقائی نے فنانشل ٹائمز کو گوتریس کے دیے گئے اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا، جس میں اقوام متحدہ کے 80 سالہ وجود کے دوران سپر پاورز کے درمیان جنگ سے بچاؤ کو تنظیم کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اقوام متحدہ کے مقصد کو محض سپر پاورز کے درمیان جنگ روکنے تک محدود کرنا گمراہ کن اور خطرناک ہے۔ ان کے مطابق ایسی تشریح اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتی ہے، بیشتر رکن ممالک کو غیر اہم بنا دیتی ہے اور بڑی طاقتوں کی جانب سے دیگر ممالک کے خلاف کیے گئے مظالم پر پردہ ڈالتی ہے۔
مسٹربقائی نے مزید کہا کہ انتونیو گوتریس کی اس تشریح کے مطابق تو کوریا، ویتنام، کانگو، عراق، افغانستان، یمن، سوڈان اور غزہ میں لڑی جانے والی جنگیں اور ڈھائے جانے والے مظالم "سب اقوامِ متحدہ کی کامیابیاں شمار ہوں گی۔"
