شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 26ویں سربراہی اجلاس سے بشکیک میں خطاب کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا کہ ایران کا اپنے بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کا ’’شاندار ریکارڈ‘‘ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یک طرفہ اقدامات، فوجی طاقت کا استعمال، غیر قانونی پابندیاں اور جغرافیائی سیاسی مسابقت علاقائی اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
پزیشکیان نے ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’13 جون 2025 اور 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں، بین الاقوامی قانون، طاقت کے استعمال کی ممانعت کے اصول اور زندگی کے حق کی واضح خلاف ورزی تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران، لبنان، غزہ اور مغربی کنارے سمیت پورے مغربی ایشیا میں ہونے والے واقعات نے طاقت اور دباؤ پر مبنی طرزِ عمل کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔
پزیشکیان کے مطابق ایران پر ہونے والے حملوں میں مینا ب کے ایک اسکول اور فارس صوبے کے لامِرد میں ایک اسٹیڈیم پر حملے بھی شامل تھے، جن میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ 40 روزہ جنگ کے پہلے دن کے بڑے جرائم کی صرف تین مثالیں تھیں۔ اس بربریت کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی مسلح افواج کی طاقت اور عوام کی حمایت کے بل پر امریکہ اور قابض حکومت کو بھاری اسٹریٹجک شکست دی۔‘‘
یزیشکیان نے کہا کہ یہ حملے ایس سی او کے ایک رکن ملک اور ایک قدیم تہذیب پر حملہ تھے۔ انہوں نے ان رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جارحیت کی مذمت کی اور تہران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی 40 روزہ مزاحمت کے بعد بالآخر جنگ بندی عمل میں آئی اور امریکہ اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایرانی صدر کے مطابق اس کے بعد پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تین ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’تاہم، صدر کی جانب سے دستخط کیے گئے اس دستاویز کے حوالے سے امریکی عزم دو ہفتے سے بھی کم عرصے تک قائم رہا اور امریکہ نے اپنے وعدوں سے انحراف شروع کر دیا، جو اب بھی جاری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ واضح ہے کہ امریکی وعدوں کی خلاف ورزی کا ایران نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ہے۔ لیکن میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ اگر امریکہ مفاہمتی یادداشت میں اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اسی طرح جواب دے گا۔ امریکہ کے برعکس، بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔‘‘
یزیشکیان نے سلامتی اور اقتصادی معاملات میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی، پرتشدد انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر جرائم اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کو خطے کے اہم خطرات قرار دیا۔ ایرانی صدر نے ایس سی او کے اندر متعدد اقتصادی اقدامات کی تجویز بھی پیش کی، جن میں مالیاتی اور بینکاری تعاون کو مزید گہرا کرنا، ’’ایس سی او بینک‘‘ کا قیام، برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے انشورنس یونین اور ’’ایس سی او انرجی کنسورشیم‘‘ کا قیام شامل ہے۔
سلامتی کے شعبے میں انہوں نے تنظیم کے اندر ایک ’’اسٹریٹجک سکیورٹی اسٹڈیز سینٹر‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جو ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرنے اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارشات پیش کر سکے۔
