Masarrat
Masarrat Urdu

معروف عالم اور مدرسہ قاسمیہ سنسری نیپال کے بانی مہتمم مولانا عبدالودود کا انتقال، علاقے کا ناقابل تلافی نقصان

Thumb

نئی دہلی، یکم ستمبر (عابد انور۔مسرت ڈاٹ کام) نیپال کے معروف عالم دین اور مدرسہ قاسمیہ گھسکی سنسری نیپال کے بانی مہتمم مولانا عبدالودود قاسمی آج علی الصح اچانک انتقال ہوگیا ہے، اندازہ لگایا گیا ہے کہ شاید دل کا شدید دورہ پڑا ہو۔ ان کی عمر 55 سال سے زائد تھی۔ پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

مولانا عبدالودود قاسمی مرحوم کے صاحبزادے مولانا راشد نے بتایاکہ مولانا بالکل صحت مند تھے اور کل بازار بھی گئے تھے اور رات میں کھانا بھی کھایا تھا لیکن آج علی الصبح فجر سے عین قبل وہ اس دنیا ئے فانی سے رحلت کرگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تدفین آج شام پانچ بجے عمل میں آئی، جس میں علاقے کے سرکردہ علما، سماجی کارکن اور مقامی سیاست دانوں نے شرکت گی۔ ان کے انتقال نہ صرف نیپال بلکہ ہندوستان کے سرحدی علاقے کے لوگوں میں غم کا ماحول ہے۔

مولانا عبدالودود کا تعلق ایک زمیندار خاندان سے تھا لیکن انہوں نے دین کی خدمت کو منتخب کیا اور مدرسہ قاسمیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا جس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا انتظام بھی تھا اور نیپالی نصاب کے مطابق اسکولی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسلم بچیوں کی تعلیم کے لئے مدرسہ البنات بھی قائم کیا تھا۔ ایسے وقت میں انہوں نے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے مدرسہ قائم کیا تھا جب علاقے میں اسلامی ادارے کا فقدان تھا۔

انہوں نے مدرسہ کو کبھی بھی اپنے معاش کا ذریعہ نہیں بنایا تھا بلکہ زراعت اور دیگر وسائل سے اپنی روز مرہ کی زندگی گزارتے تھے۔ یہ مدرسہ حفظ قرآن کے لئے بہت مشہور تھا۔ دور دراز سے بچے حفظ قرآن کے لئے آتے تھے۔مدرسہ کا نظام سخت تھا اور تربیت بھی کی جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا پسندیدہ ادارہ ہے۔

ان کا خیال تھا کہ اسلامی معاشرے میں تبدیلی اور برائی اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک کہ صاحب ثرو ت افراد اس میدان میں قدم نہیں رکھیں گے۔ ان کا احساس تھا کہ صاحب حیثیت افراد دینی تعلیم حاصل کریں گے اور دین کی تبلیغ کریں تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور معاشرہ زیادہ توجہ سے سنے گا۔ اس لئے انہوں نے اپنے ذاتی زمین اور پیسے سے مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ بہت بااخلاق، ملنساربڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کرنے والے انسان تھے۔

ان کے انتقال پر سیمانچل سرکل آف دہلی نے نہایت گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سیمانچل سرکل دہلی کے سرپرست مولانا نثار احمد ندوی،صدر اور یو این آئی کے معروف صحافی عابد انور، جنرل سکریٹری ڈاکٹر مہربانی فلاحی، ناب صدر ڈاکٹر شمیم احمد ندوی، القرآن اکیڈمی کے صدر مولانا اکرام قاسمی اور جملہ اراکین سیمانچل سرکل آف دہلی نے مولانا عبدالودود کے انتقال کو نہ صرف نیپال بلکہ سرحد کے اس پار کے عوام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ سیمانچل سرکل نے کہا ہے کہ مولانا کا اچانک درمیان سے اٹھ جانا سب کے لئے صدمہ کا باعث ہے اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ان کی تعزیت میں سیمانچل سرکل آف دہلی مولانا عبدالودود قاسمی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جلد ایک تعزیتی نشست منعقد کرے گی۔

 

Ads