Masarrat
Masarrat Urdu

جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرحِ نمو پر جے رام رمیش اٹھائے سوال ، کہا مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقے پر بڑھ رہا ہے شدید اقتصادی بوجھ

Thumb

نئی دہلی،یکم ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان کی 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی ہے کہ یہ اہم اعداد و شمار معیشت میں موجود کئی بنیادی کمزوریوں کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر "وقت سے پہلے جشن منانے" کا الزام لگایا ہے۔

پیر کے روز جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جون کے دوران ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی سال بہ سال 7.8 فیصد کی شرح سے بڑھی، جس میں مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی کا تخمینہ 81.36 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 75.46 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ نامینل جی ڈی پی 10.3 فیصد بڑھ کر 88.27 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔

پہلی سہ ماہی کی یہ نمو ریزرو بینک آف انڈیا کے پہلے کے 7 فیصد کے تخمینے سے زیادہ تھی، اگرچہ یہ مالیاتی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں درج کی گئی 8.6 فیصد کی ترمیم شدہ نمو سے کم تھی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعداد و شمار پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار معیشت کی صورتحال کی گمراہ کن تصویر پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار، جیسے کہ وہ رپورٹ کیے گئے ہیں، معیشت کی ایک شدید تحریف شدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔"

جے رام رمیش نے دلیل دی کہ نمو کے یہ اعداد و شمار ملکی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے درمیان "شدید طور پر افسردہ نجی سرمایہ کاری کے جذبات" کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے صارفین کے کمزور اعتماد، گھریلو ضروریات کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری، چین کے ساتھ تجارتی خسارے اور گھریلو مالیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بھی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا، "صارفین کا اعتماد کمزورہوا ہے، جو کووڈ کے بعد کے اپنے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گیا ہے اور نومبر 2025 سے مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں "تیزی سے بڑھ رہی ہیں" اور تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری "تشویشناک سطح" پر ہے۔

کانگریسی رہنما نے چین کے ساتھ ملک کے تجارتی خسارے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ "چین کے ساتھ مسلسل تجارتی خسارہ تباہی مچا رہا ہے"۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اہم شعبوں کو "چند بڑے صنعتی گھرانوں" کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر "نقصان دہ اثرات" مرتب ہو رہے ہیں۔

جے رام رمیش نے نابرابری اور گھریلو مالیات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا، "ہندوستان کے 5 سب سے امیر خاندانوں کی دولت میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تنخواہ دار ملازمین کی حقیقی اجرتوں میں کمی آئی ہے،" جبکہ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ گھریلو بچت کی شرح میں کمی آئی ہے اور گھریلو قرضے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

ان کی یہ تنقید پہلی سہ ماہی کی نمو کے اعداد و شمار کی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے زبردست تائید کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے 7.8 فیصد کے اس اضافے کو ایک "مثالی" اور "عظیم کارنامہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود یہ کارکردگی حاصل کی ہے۔

حکومت نے توقع سے زیادہ مضبوط جی ڈی پی کارکردگی کو ہندوستانی معیشت کے استحکام کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کے ساتھ، سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی گراس ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گراس فکسڈ کیپٹل فارمیشن میں 11.9 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

کانگریس نے تاہم یہ دلیل دی ہے کہ اقتصادی نمو کا معیار اور شمولیت کا اندازہ روزگار، حقیقی اجرت، گھریلو استعمال، بچت، نجی سرمایہ کاری اور مالیاتی تحفظ سمیت وسیع تر اشاریوں کے ذریعے لگایا جانا چاہیے۔

وزیرِ اعظم پر براہِ راست تنز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: "یہ وزیرِ اعظم کی طرف سے وقت سے پہلے جشن منانے کا معاملہ ہے۔"

Ads