تہران، یکم ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں پر واپس آنا ہوگا تاکہ موجودہ صورتحال سے نکلنے اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوسکے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے اجلاس کے پہلے روز ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنا ہوگا۔
عراقچی نے اجلاس کے پہلے روز کے اختتام پر کہا کہ تمام ملاقاتیں اور مذاکرات مکمل طور پر عملی نوعیت کے تھے اور معمول کی رسمی کارروائیوں سے ہٹ کر مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بالخصوص اقتصادی اور دیگر شعبوں میں موجود تعاون کے امکانات اور باہمی تعاون کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کا معاملہ بھی ملاقاتوں میں زیر بحث آیا۔ ہم نے واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنے حقوق کے حصول کے لیے بدستور ڈٹی رہے گی اور تمام ملاقاتوں میں اس مؤقف پر زور دیا گیا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ تمام ملاقاتوں میں زیر بحث آنے والے اہم موضوعات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھی شامل تھی، جس پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے تھے، تاہم امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں پر واپس آنا اور مفاہمتی یادداشت کی شقوں کی پابندی کرنا ہوگی، جس کے بعد موجودہ صورتحال سے نکلنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، کیونکہ تمام ممالک کی یہ اپیل ہے کہ جنگ جلد از جلد ختم ہونی چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے واضح کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل بالکل روشن اور واضح ہے؛ امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں اور اسی معاہدے پر واپس آنا ہوگا جس پر اس کے صدر نے دستخط کیے تھے۔ ایسی صورت میں تمام معاملات دوبارہ درست سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
