Masarrat
Masarrat Urdu

''شدھی کرن'' کرنے والوں کے بجائے راہل پر ایف آئی آر درج کی گئی- کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 31 اگست (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس نے اتراکھنڈ میں پارٹی صدر ملکیارجن کھرگے کے جلسہ عام کے بعد ’’شدھیکرن‘‘ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کو بی جے پی-آر ایس ایس کی دلت مخالف ذہنیت قرار دیا اور کہا کہ اس معاملے میں آواز اٹھانے والے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی آواز دبانے کی کوشش میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اتراکھنڈ کانگریس کی انچارج کماری سیلجا نے پیر کو سوشل میڈیا ''ایکس'' پر کہا کہ مسٹر کھرگے کے جلسہ عام کے بعد ''شدھیکرن'' کرنے والوں پر کارروائی نہیں کی گئی، لیکن اس ذات پات پر مبنی عمل کے خلاف آواز اٹھانے والے مسٹر گاندھی پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی بی جے پی حکومت کا انصاف ہے؟

انہوں نے کہا کہ پہلے 'شدھیکرن'' کیا گیا، پھر اتراکھنڈ بی جے پی صدر نے کھلے عام اس کا دفاع کیا اور اب مسٹر گاندھی نے قصورواروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تو اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں الٹا انہی پر مقدمہ درج ہوگیا۔

کماری سیلجا نے الزام لگایا کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ بی جے پی-آر ایس ایس کی دلت مخالف اور آئین مخالف سوچ کی ایک انتہائی سنگین مثال ہے۔ مسٹر گاندھی نے وہی سوال اٹھایا ہے جسے کانگریس صدر خود پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں کہ ''شدھیکرن'' کے اس عمل نے انہیں چھوت چھات کا احساس کرایا اور ان کی توہین کی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا طریقہ دیکھئے ''شدھیکرن'' کرنے والوں پر سوال اٹھاؤ تو ایف آئی آر، دلت کے احترام کی بات کرو تو ایف آئی آر اور آئین کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاؤ تو اس پر بھی ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔

کماری سیلجا نے وزیراعظم نریندر مودی سے پورے معاملے پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس یہ غلط فہمی نکال دیں کہ مقدمات کے ڈر سے مسٹر گاندھی یا کانگریس پیچھے ہٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس کا منھ توڑ جواب جمہوری اور قانونی طریقے سے دے گی اور ''شدھیکرن'' کی ذات پات پر مبنی ذہنیت کے خلاف اور دلت کے احترام و آئین کے تحفظ کے لیے یہ لڑائی پوری طاقت سے لڑے گی۔

 

Ads