Masarrat
Masarrat Urdu

ظفرالاسلام خان کی جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل: تحقیقات کا دائرہ کشمیری پنڈتوں سے آگے بڑھائیں

Thumb

نئی دہلی، 27 اگست (مسرت ڈاٹ کام) دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین اور آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام ایک خط لکھ کر کشمیری شہریوں کے خلاف فوج، سکیورٹی فورسز، پولیس اور حکومت کی پشت پناہی یافتہ مسلح عناصر کی جانب سے کی گئی تاریخی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی اپیل کی ہے۔

جموں و کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کے کشمیری پنڈتوں کے خلاف ماضی کے مظالم کی تحقیقات کرنےکے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور اسے ''درست سمت میں ایک قدم'' قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر خان نے زور دیا کہ حقیقی مفاہمت کے لیے کئی دہائیوں پر محیط تنازع کے تمام متاثرین کے لیے یکساں احتساب اور اختتامی انصاف ضروری ہے۔

اپنے خط میں انسانی حقوق کے ممتاز کارکن نے انسانی حقوق سے متعلق متعدد ایسے مسائل کی جانب توجہ دلائی جو اب بھی حل کے طالب ہیں جیسے :

· لاپتہ افراد اور بے نام قبریں: ڈاکٹر خان نے جموں و کشمیر میں اندازاً دس ہزار لاپتا نوجوانوں کے بارے میں سرکاری تحقیقات، سیکڑوں ''نیم بیواؤں'' کے ان شوہروں کے انجام کے بارے میں حتمی جواب، جن کی تلاش وہ اب بھی کر رہی ہیں، اور خطے بھر میں پھیلی سیکڑوں بے نام قبروں کی شفاف جانچ ۔

 

· اہم تاریخی واقعات: انہوں نے ماضی کے بڑے سانحات، مثلاً ۱۹۹۱ کے کونن پوشپورہ اجتماعی عصمت دری اور ۲۰۰۰ کے چھتی سنگھ پورہ اجتماعی قتل کے واقعات کی دیانت دارانہ تحقیقات پر زور دیا۔

· پیلیٹ گن کے متاثرین: ڈاکٹر خان نے ۲۰۱۰ کے احتجاجات کے دوران پیلیٹ بندوقوں سے نابینا اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے جامع طبی امداد، منصفانہ معاوضے اور ریاست کی جانب سے باضابطہ معذرت کا مطالبہ کیا۔

· قیدیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر راحت: طویل عرصے سے سیاسی حراست میں موجود افراد کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے انتظامیہ سے انسانی بنیادوں پر اپیل کی کہ شبیر شاہ اور ڈاکٹر قاسم فکتو جیسے عمر رسیدہ قیدیوں کو اپنی باقی زندگی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گزارنے کی اجازت دی جائے۔

اپنی اپیل کے اختتام پر ڈاکٹر خان نے امید ظاہر کی کہ لیفٹیننٹ گورنر سنہا ریاستی تحقیقات کا دائرہ ہمدردانہ انداز میں وسیع کریں گے تاکہ جموں و کشمیر میں تمام متاثرہ لوگوں کے لیے ہمہ گیر انصاف اور طویل عرصے سے منتظر داد رسی یقینی بنائی جا سکے۔

 

Ads