سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ اسرو کے بدلتے ہوئے کردار کے بارے میں حال ہی میں آنے والی خبروں نے اس ادارے کے مستقبل کے حوالے سے "جائز خدشات" پیدا کر دیے ہیں، جس کی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کو گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران بڑی محنت اور طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے ہندوستان کے اسپیس پروگرام کی تعمیر میں وکرم سارابھائی، ستیش دھون، برہم پرکاش، یو آر راؤ اور اے پی جے عبدالکلام جیسی ممتاز شخصیات کے ساتھ ساتھ دیگر سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کی خدمات کو یاد کیا۔
مسٹر رمیش نے کہا، "گزشتہ کچھ دنوں میں ہمارے ملک کے اسپیس پروگرام میں اسرو کے مستقبل کے کردار کے بارے میں میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اس نے اس کی صلاحیتوں اور قابلیت کے پیش نظر جائز خدشات کو جنم دیا ہے، جنہیں گزشتہ چھ دہائیوں میں اتنے منظم اور محنت سے تیار کیا گیا تھا۔"
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ حکومت خلائی شعبے میں نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانے کی پالیسی پر اسی طرح عمل کر رہی ہے جیسا کہ اس کا ایٹمی توانائی کی طرف نقطہ نظر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تجویز کردہ تبدیلیوں کے لیے ہدایات وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم دفتر کی طرف سے آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، "یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایٹمی توانائی کی طرح مودی حکومت کے پاس اسپیس پروگرام کے لیے بھی جارحانہ نجکاری کا ایجنڈا ہے۔"
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ راکٹ کی ترقی اور مینوفیکچرنگ میں اسرو کی شمولیت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ سیٹلائٹ سے متعلق متعدد اثاثے نجی کمپنیوں کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمل ناڈو میں مجوزہ دوسرے اسپیس پورٹ پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس کی ترقی میں بڑی سرکاری سرمایہ کاری کے باوجود اس کی ذمہ داری ایک نجی کمپنی کے حوالے کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا اسپیس پورٹ کے مستقبل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بدلتی ہوئی پالیسیوں کے درمیان اس کی طویل مدتی حیثیت غیر یقینی نظر آتی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات نے کہا کہ اسرو نے اپنی کامیابیوں کے ذریعے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے متعدد مواقع پر ایجنسی کی کامیابیوں کا جشن منایا ہے۔ خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کی مزید حوصلہ افزائی کی حمایت کرتے ہوئے مسٹر رمیش نے سوال اٹھایا کہ کیا ان کی ترقی اسرو کی قیمت پر ہونی چاہیے؟
انہوں نے سوال کیا، "اسپیس اسٹارٹ اپس یقیناً حوصلہ افزائی اور تعاون کے مستحق ہیں۔ لیکن اسرو، جس کے نجی شعبے کے ساتھ طویل عرصے سے نتیجہ خیز تعلقات رہے ہیں، اسے اب کیوں کمزور کیا جا رہا ہے؟"
مسٹر رمیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ مہینوں میں 100 سے 120 کے قریب اہم اسرو پیشہ ور افراد نے ادارہ چھوڑ دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ چھوڑنے کا یہ رجحان ایجنسی کے بدلتے ہوئے کردار پر خدشات کی عکاسی کر سکتا ہیں۔
اسرو کے ایک سابق چیئرمین کا حوالہ دیتے ہوئے جو بعد میں بی جے پی میں شامل ہوئے اور مبینہ طور پر نجکاری کی مہم پر شک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں، مسٹر رمیش نے اسپیس ایجنسی کے دیگر سابق سربراہان پر بھی زور دیا کہ وہ اس مسئلے پر علانیہ بات کریں۔
یہ تبصرے ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے کردار کو وسعت دینے کی کوششوں کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں حکومتی اصلاحات کا مقصد نجی سرمایہ کاری اور شراکت کی حوصلہ افزائی کرنا رہا ہے جبکہ اسرو ریسرچ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اہم قومی خلائی مشنوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش کے ان تبصروں نے ہندوستان کے اسپیس پروگرام کے مستقبل کے ڈھانچے اور نجی اداروں کو فروغ دینے نیز ملک کے سرکردہ عوامی خلائی ادارے کے دہائیوں کے قائم کردہ اثاثوں کی حفاظت کے درمیان توازن پر جاری سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
