وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ سرحدی مسئلے پر ہندستان کے خصوصی نمائندے ڈوبھال اور چین کے خصوصی نمائندے وانگ منگل کے روز خصوصی نمائندوں کی بات چیت کے 25ویں دور کی میٹنگ کریں گے۔ وزارت نے مزید کہا کہ اپنے دورے کے دوران مسٹر ڈوبھال کی چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے بھی ملاقات کا پروگرام ہے۔
وزارتِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے، "چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر ہندستان - چین سرحد کے معاملے پر ہندستان کے خصوصی نمائندے اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال آج دوپہر دو روزہ دورے پر بیجنگ پہنچے۔"
یہ بات چیت 2020 میں مشرقی لداخ میں ہوئی پرتشدد جھڑپ کے بعد تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ اس واقعے کے بعد ہمالیائی سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان طویل فوجی تعطل پیدا ہو گیا تھا۔
حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) کے متعدد تصادم والے مقامات سے دونوں فریقوں کے فوجیوں کی واپسی شروع کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں آہستہ آہستہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی حال ہی میں بین الاقوامی کانفرنسوں کے حاشیے پر ملاقاتیں کی ہیں۔
مسٹر ڈوبھال اور مسٹر وانگ کی اس سے پہلے جون میں نئی دہلی میں برکس قومی سلامتی کے مشیروں کی میٹنگ کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔ ہندستان نے اس وقت کہا تھا کہ بات چیت 'تعمیری اور مستقبل پر مبنی' تھی اور دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو تدریجی طور پر معمول پر لانے کی سمت میں پیش رفت کا جائزہ لیا تھا۔ دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو سنبھالنے میں باہمی احترام اور حساسیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنے اختلافات کو بڑے تنازعات میں بدلنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
سرحدی بات چیت کا یہ تازہ دور ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ہندستان اور چین سکیورٹی، تجارت اور علاقائی اثر و رسوخ پر طویل عرصے سے چلے آرہے اسٹریٹجک اختلافات کو سنبھالتے ہوئے حال ہی میں حاصل ہونے والی سفارتی رفتار کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
