مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ حکومت براہِ راست آئین میں تبدیلی کیے بغیر ہی رزرویشن کے مواقع ختم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 میں مرکزی حکومت میں 4.21 لاکھ عہدے خالی تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 8.24 لاکھ ہو گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریلوے میں تقریباً 2.40 لاکھ، دفاعی شعبے میں 2.41 لاکھ اور وزارتِ داخلہ میں 1.10 لاکھ عہدے خالی ہیں۔ پبلک سیکٹر کے اداروں میں 5.1 لاکھ مستقل نوکریاں ختم ہو گئیں، جبکہ کنٹریکٹ ملازمین کا حصہ 19 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال صرف روزگار کا نہیں، بلکہ سماجی انصاف کا بھی ہے۔ سرکاری عہدے خالی رکھے جانے سے رزرویشن کے تحت ملنے والے مواقع کم ہوتے ہیں، پبلک سیکٹر کے اداروں کی نجکاری سے ریزرو نوکریاں متاثر ہوتی ہیں اور مستقل نوکریوں کو کنٹریکٹ میں بدلنے سے رزرویشن کا فائدہ محدود ہوتا ہے۔
مسٹر کھرگے نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی سماجی انصاف مخالف پالیسی کے تحت درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈیبلیو ایس) کے آئینی حقوق کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین سے ملے حقوق کی حفاظت کے لیے اس پالیسی کی مخالفت ضروری ہے۔
