وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نے خلائی شعبے کے ان نئے رہنماؤں کو نئے میدان میں جرأت اور پہل کرنے پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ صنعت کی جانب سے ظاہر کیا گیا اعتماد اس وژن کو مزید مضبوط کرتا ہے، جس کے تحت ہندوستان کے خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولا گیا تھا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ کئی ممالک یا تو خلائی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں یا وہاں ایسا کرنے کی خواہش موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال سے ہندوستان کے پاس عالمی خلائی شعبے میں اپنی پوزیشن تیزی سے مضبوط کرنے کا ایک بڑا موقع ہے۔
اس بات چیت میں راکٹ اور دوبارہ قابلِ استعمال سیمی کریوجینک لانچ وہیکلز، ایویانکس، سیٹلائٹس، جدید پروپلشن سسٹمز، خلائی اور دفاعی انٹیلی جنس، خلاء میں موجود ملبے کو ہٹانے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انتہائی مقامی موسمی اور آب و ہوا سے متعلق معلومات سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والی اہم کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوئے۔
ان اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم کی حمایت اور اعتماد کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے ملک کی خلائی صنعت میں نجی اداروں کی پیش رفت اور اس شعبے کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں مقامی صلاحیتوں اور ضروری ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے انہوں نے کافی وقت اور کوشش صرف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیمیں خلائی شعبے میں بلند حوصلہ اہداف حاصل کرنے کے لیے پوری لگن اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا کہ خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولنے کے فیصلے سے صنعت میں زبردست جوش پیدا ہوا اور نئے مواقع کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی ممالک کی کمپنیاں ہندوستان کی ابھرتی ہوئی نجی خلائی صنعت کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔وزیراعظم مودی نے خلائی کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجیز کے نئے استعمال اور اطلاق کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سوچنا چاہیے کہ خلائی ٹیکنالوجی عام لوگوں کی زندگی کو کس طرح آسان بنا سکتی ہے۔
انہوں نے خلائی شعبے کی کمپنیوں اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان زیادہ تعاون کی تجویز پیش کی۔ مثال کے طور پر خلائی ملبے پر کام کرنے والی کمپنیاں ماحولیاتی تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنی ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر نافذ کرسکتی ہیں۔ اسی طرح، زرعی شعبے کے ساتھ کام کرنے والی خلائی ٹیکنالوجی کمپنیاں زرعی یونیورسٹیوں اور متعلقہ محکموں کے ساتھ تعاون کرکے کسانوں کو بہتر اور زیادہ باخبر فیصلے کرنے اور ان کی پیداوار بڑھانے میں مدد کرسکتی ہیں۔وزیراعظم نے ایسے ماحولیاتی نظام اور ماحول کی تشکیل پر زور دیا جہاں جب بھی دنیا خلائی شعبے کے بارے میں سوچے تو اس کی نگاہ ہندوستان کی طرف جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی شعبہ عالمی صلاحیتوں، کمپنیوں اور سرمایہ کاری کو ملک کی جانب راغب کرنے والا مقناطیس بن سکتا ہے۔انہوں نے اٹل ٹنکرنگ لیبز کے ساتھ بھی مزید قریبی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کم عمری ہی سے بچوں میں خلائی شعبے کے حوالے سے تجسس اور دلچسپی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
اس بات چیت میں اسکائی روٹ ایرو اسپیس، اگنیکُل کاسموس، پکسل، دھرو اسپیس، گلیکسی آئی، پیئر سائٹ، بیلاٹرکس ایرو اسپیس، دگنتارا، سیٹ شیور، سُہورا ٹیکنالوجیز، منستو اسپیس، ایسٹروبیس، ٹیک می 2 اسپیس، ویومک، کاسموسرو اسپیس، آربیٹ اے آئی ڈی ایرو اسپیس، اسکائی سرو (ہائی اسپیس)، سرینڈیپیٹی اسپیس، واسر لیبز اور مسٹیو کے نمائندے شامل تھے۔