Masarrat
Masarrat Urdu

طلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل

Thumb

نئی دہلی، 21 اگست (مسرت ڈاٹ کام) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ 20 جولائی کو کناٹ پلیس میں طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اور اس کے پختہ ثبوت ان کے پاس ہیں اس لیے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے قصوروار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

مسٹر راہل گاندھی نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں طلباء تحریک کے دوران ساحل نامی ایک طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور جب ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں یہ کہتے ہوئے دھرنے پر بیٹھ گئے کہ جب تک ایف آئی آر نہیں لکھی جاتی وہ دھرنے کی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔ میڈیا کو اس کی اطلاع راہل کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچتے ہی دی گئی تھی۔ خبریں سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان بھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پہنچ گئے۔ کئی کارکنان تھانے کے اندر پہنچ کر نعرے بازی کرتے بھی سنائی دیے۔ دھرنے کی جگہ پر راہل کے ساتھ پیلٹ گن سے متاثرہ ساحل، اس کے والد دیپک اور والدہ جیوتی کے علاوہ کانگریس رہنما محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کماری شیلجا، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش، ہریش راوت سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔

دھرنے کی جگہ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، " طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔" انہوں نے ساحل کے جسم پر لگے چھرے میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے تین چھرے اس نوجوان کی آنکھ میں ہیں۔ لیڈی ہارڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ میں بھی اس کے جسم میں چھرے ہونے کی بات صاف طور پر لکھی ہے۔ ان چھروں کی وجہ سے ساحل کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور اس کے دل کے پاس بھی چھرے ہیں، جنہیں چھوا نہیں جا سکتا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا، "تو سوال ایک ہی ہے کہ آپ نے نہیں چلائے تو کسی اور نے چھرے چلا دیے ہوں گے اور اگر کسی اور نے بھی چھرے چلائے ہیں تو بھی جرم ہوا ہے۔"

راہل نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر درج کرنے کا ہے۔ ان کے ساتھ متاثرہ نوجوان ساحل کی والدہ جیوتی اور والد دیپک بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں کرنی ہے، لیکن جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری اور غریبوں کے ساتھ جرائم ہوتے ہیں نیز نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں پیلٹ گن چلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاندان کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح وہ خود مندر مارگ تھانے گئے تھے، لیکن وہاں ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا گیا اور انہیں یہاں بھیجا گیا اور اب ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی وہ یہاں سے جائیں گے۔

راہل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت سنگین جرم ہے۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نے ان سے معافی مانگی ہے۔ اب ایف آئی آر ہوگی، عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔

اس دوران ساحل نے میڈیا سے کہا کہ 20 جولائی کو اس پر پیلٹ گن سے گولی چلائی گئی تھی۔ اسے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ایمس میں اس کی سرجری ہوئی لیکن اس کی آنکھ کی بینائی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ اس نے 14 اگست کو سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کے ذریعے دی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ایم پی کشوری لال شرما نے کہا، "ایف آئی آر درج کروانا ہمارا جمہوری حق ہے۔ پیلٹ گن کی گولی سے متاثرہ نوجوان اتنے دنوں سے بھٹک رہا ہے اور اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے راہل اس کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے یہاں آئے۔ آپ دیکھیے کہ جمہوریت کا کتنا قتل ہو رہا ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو اس کی ایف آئی آر درج کروانے آنا پڑ رہا ہے۔"

 

Ads