پارٹی کے سینئر رہنما جے پرکاش نڈّا اور روی شنکر پرساد دونوں نے کانگریس رہنما کے آج کے دھرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک آئین، قانون اورضابطہ سے چلے گا نہ کہ کسی خاندان کے ہٹ دھرمی سے۔ جے پرکاش نڈّا نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس پارٹی قومی گیت کی توہین کے مسئلے پر چاروں طرف سے گھِر چکی ہے اور وندے ماترم کے سلسلے میں عوام اس سے جواب مانگ رہے ہیں۔ کانگریس کے لیے اس مسئلے پر منہ چھپانا مشکل ہو رہا ہے اس لیے راہل پھر اس طرح کے کام پر اتر آئے۔ انہوں نے کہا، "راہل کا یہ عمل نہ تو کسی کو انصاف دلانے کے لیے ہے اور نہ ہی جانچ کے لیے ہے بلکہ قومی گیت کی توہین میں پھنسی کانگریس پارٹی کا اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا ایک نیا ڈراما ہے۔"
جے پرکاش نڈّا نے پارلیمنٹ میں تعطل کے لیے بھی کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے 20 جولائی کو طلباء کی تحریک کے دوران پولیس کارروائی پر تفصیل سے بات چیت کا چیلنج دیا تھا لیکن کانگریس کو ایوان کے فلور پر جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی اور وہ بات چیت سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے آج کے راہل گاندھی کے دھرنے کو 'توجہ ہٹانے اور سرخیاں بٹورنے کی سستی سیاست' قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے دارالحکومت میں 20 تاریخ کے واقعات کی تفصیلی جانچ کے لیے جب ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں پانچ رکنی کمیٹی بنا دی ہے تو راہل جی کو آج اس طرح کا ڈراما کرنے کی کیا سوجھی؟ انہوں نے کہا کہ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ انہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پر اعتماد نہیں ہے اور انہوں نے یہ سب 'خود کو سرخیوں میں بنائے رکھنے کے لیے کیا ہے'۔
جے پرکاش نڈّا نے کہا کہ آج بھی راہل کو پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پہنچنے کے بعد دہلی پولیس کے ڈی سی پی رینک کے ایک افسر نے سمجھا دیا تھا کہ 20 جولائی کے تمام معاملات کی کرائم برانچ باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے اور انہوں نے (راہل) نے جو معاملہ پیش کیا ہے اسے بھی جانچ کے لیے دے دیا جائے گا۔ لیکن 'اپنی ہٹ دھرمی اور مایوسی' میں وہ وہاں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کانگریس کو 'طفیلی' بتانے والے وزیراعظم نریندر مودی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس دوسروں پر منحصر ہو چکی ہے، وہ جس پارٹی کا سہارا لیتی ہے اسے تباہ کر دیتی ہے۔ وہ ملک کے طلباء اور نوجوانوں کے مستقبل کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے۔
بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر جے پرکاش نڈّا نے واضح طور پر کہا، "یہ ملک آئین اور قانون سے چلے گا، کسی خاندان کی ہٹ دھرمی سے نہیں۔" انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کانگریس کی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ بی جے پی ایم پی روی شنکر پرساد نے راہل کے دھرنے کو 'نہایت افسوس ناک' قرار دیتے ہوئے کہا کہ "راہل گاندھی انارکی کی سیاست کر رہے ہیں۔ اس وقت وہ بغیر کسی اجازت یا اطلاع کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ جس واقعے کا وہ ذکر کر رہے ہیں، اس پر پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔"
روی شنکر پرساد نے سوال کیا، "راہل گاندھی، کیا آپ کسی قانون کا احترام نہیں کرنا چاہتے؟ ہمیں شک ہے اور ہم الزام لگاتے ہیں کہ کانگریس اب قومی گیت 'وندے ماترم' کو لے کر اپنے موقف کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئی ہے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس اس وقت جو کچھ کر رہی ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔"
