ڈاکٹر سنگھ نے اتوار کو ’’رمیٹولوجی ایسینشلز: اے نیو فرنٹیئر فار ایسپائرنگ کلینیشنز‘‘ کتاب کی رسمِ اجرا کے موقع پر کہا کہ یہ تین سطحی طریقۂ کار غیر ضروری ادویات اور ٹیسٹوں کو کم کرنے، بیماری کی تشخیص میں تاخیر روکنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرسکتا ہے کہ مریض بروقت صحیح ماہر ڈاکٹر تک پہنچیں۔
معروف رمیٹولوجسٹ پروفیسر آنند این. مالویہ اور ڈاکٹر پرشانت کوشک کی تحریر کردہ اس کتاب کی تقریب میں طبی شعبے کی ممتاز شخصیات کی موجودگی میں رونمائی کی گئی، جن میں ایمس کے شعبہ رمیٹولوجی کی سربراہ ڈاکٹر اوما کمار اور ڈاکٹر شنکر سبرامنیم شامل تھے۔ پروفیسر مالویہ ہندوستان میں رمیٹولوجی اور کلینیکل امیونولوجی کے شعبے میں اپنی اہم خدمات کے لیے معروف ہیں، جبکہ ڈاکٹر کوشک امریکہ کے اوکلاہوما میں نارتھ ایسٹرن ہیلتھ سسٹم میں میڈیسن کے کلینیکل پروفیسر اور شعبہ رمیٹولوجی کے سربراہ ہیں۔ کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر ونود کے. پال نے لکھا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے پروفیسر مالویہ کو ’’استاذ الاساتذہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات صرف طلبہ کو پڑھانے تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے کلینیشنز اور اساتذہ کی ایسی نسلیں تیار کیں جنہوں نے پورے ملک میں رمیٹولوجی کے شعبے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پروفیسر مالویہ کے ساتھ اپنے ابتدائی تعلق کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں رمیٹولوجی کو ایک علیحدہ سپر اسپیشلٹی کے طور پر زیادہ شناخت حاصل نہیں تھی، لیکن ایمس میں پروفیسر مالویہ کے کام نے ہندوستان میں اس شعبے کی شناخت، اعتبار اور ادارہ جاتی بنیاد قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسر مالویہ نے نہ صرف اس اسپیشلٹی کی بنیاد رکھی بلکہ منظم کورسز اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے رمیٹولوجی کو ادارہ جاتی شکل بھی دی۔ اس سے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے نوجوان ڈاکٹروں اور طبی اساتذہ کے لیے خصوصی تربیت حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ رمیٹولوجسٹ کی تعداد میں اضافہ اور اس شعبے میں باضابطہ پروگرام پروفیسر مالویہ کی دیرپا خدمات کی عکاسی کرتے ہیں۔
