Masarrat
Masarrat Urdu

صہیونی جرائم کا سلسلہ جاری رہا تو مناسب جواب دیا جائے گا، حزب اللہ

  • 16 Aug 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

بیروت، 16 اگست (مسرت ڈاٹ کام) حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ لبنان کی خودمختاری اور عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو لبنان کے دفاع میں مناسب جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان نے جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں پر اسرائیلی حملوں اور شہریوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس کی جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔

حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج صبح لبنانی عوام ایسے وقت بیدار ہوئے جب اسرائیلی دشمن نے جنوبی لبنان میں بے گناہ شہریوں کے خلاف اپنی جارحیت اور وحشیانہ کارروائیوں میں مزید اضافہ کیا۔ انصار کے نواح میں ایک مکان اور دیر الزہرانی میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 11 افراد شہید اور 12 دیگر زخمی ہوئے۔

حزب اللہ نے کہا کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کے اس طویل سلسلے کا حصہ ہیں جس میں لبنانی شہریوں کا قتل، گھروں کو دھماکوں سے اڑانا، زرعی زمینوں کی تباہی اور دیہات کو مٹانا شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی جارحیت میں اضافہ، شہریوں کو نشانہ بنانا اور حملوں کا دائرہ وسیع کرنا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے جنگ کو مزید بھڑکانے کے ارادے کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد داخلی سیاسی حیثیت مضبوط کرنا، انتخابی مفادات حاصل کرنا اور انتہائی دائیں بازو کے دھڑوں کو مطمئن رکھنا ہے۔

حزب اللہ نے اسرائیلی جارحیت اور لبنان کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت اور امریکہ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اسرائیل کو سیاسی حمایت اور تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

حزب اللہ نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے تمام دستیاب راستے اختیار کریں اور اسرائیلی حملوں اور توسیع پسندانہ عزائم کے باوجود ایسے براہِ راست مذاکرات پر اصرار نہ کریں جن میں لبنان کو یک طرفہ رعایتیں دینا پڑیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لبنانی حکام اپنی پالیسیوں پر جامع نظرثانی کریں اور لبنان کی خودمختاری، حقوق اور عوام کے تحفظ کے لیے ایک محب وطن، جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کریں۔

حزب اللہ نے امریکی ثالثی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ضمانتوں اور ثالثی پر انحصار ایک ناکام منصوبہ ثابت ہو چکا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے ساتھ لبنان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور خونریزی میں شریک ہے۔

حزب اللہ نے لبنان میں امریکی سفیر کے اس مطالبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مزاحمت کے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حزب اللہ کے مطابق امریکہ کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کرے، نہ کہ لبنان سے مزاحمت کے ہتھیار چھوڑنے کا مطالبہ کیا جائے۔

بیان میں تمام لبنانی حلقوں پر زور دیا گیا کہ وہ موجودہ حکومتی پالیسی کے خطرات کو سمجھیں اور ملک کی وحدت، سلامتی اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

حزب اللہ نے آخر میں اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے خلاف حملے، جارحانہ کارروائیاں اور زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوششیں مزید جاری نہیں رہ سکتیں اور اسرائیلی دشمن کو لبنان، اس کے عوام، خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع میں مناسب جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Ads