Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ کا ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا عندیہ، اقتصادی دباؤ بڑھانے کا انتباہ

  • 14 Aug 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن/تہران، 14 اگست (مسرت ڈاٹ کام) امریکہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے اور تہران پر اقتصادی دباؤ میں مسلسل اضافہ کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، عالمی سطح پر تیل کی رسد میں کمی اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے خطے میں بحری موجودگی کو ضرورت کے مطابق برقرار رکھنے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے ایران کو پہلے ہی نمایاں اقتصادی نقصان پہنچا ہے۔

ہیگسیتھ نے پناما کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’امریکی بحریہ ایسی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو، جیسا کہ اب کررہے ہیں، ایک کے بعد دوسرے تبدیل کرتے رہیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘‘

دریں اثنا، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو مزید مالی نقصان پہنچانے کی تیاری کررہا ہے اور اسے ایسی اقتصادی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ’’جس کی دنیا نے اس سے پہلے مثال نہیں دیکھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مزید اقدامات آئندہ ہفتے متوقع ہیں۔

بیسنٹ نے قدامت پسند ٹیلی ویژن نیٹ ورک نیوز میکس سے گفتگو میں کہا، ’’یہ ایسی اقتصادی تنہائی کا مجموعہ ہوگا، جس کی دنیا نے اس سے پہلے مثال نہیں دیکھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں میں کسی بھی چیز کے داخلے یا وہاں سے کسی بھی چیز کے باہر جانے کو روک دے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اگلے ہفتے مزید اعلانات کے لیے اس معاملے پر نظر رکھیں۔‘‘

بیسنٹ نے امریکی حکمت عملی کو دو طرفہ مہم قرار دیا، جس میں مالی دباؤ کے ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی عملی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔

امریکہ کا یہ سخت مؤقف جون میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے ایک ابتدائی معاہدے کے ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے بطور حربہ استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

یہ تزویراتی اہم آبی گزرگاہ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا راستہ تھی۔ حالیہ عرصے میں اس سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کو حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران انتظامیہ کی اولین ترجیح امریکی عوام کے لیے تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی لانا اور ایران کو اس وقت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

تازہ امریکی مؤقف 4 اگست کو بیسنٹ کے دیے گئے بیان سے مختلف ہے، جب انہوں نے سی این بی سی کو بتایا تھا کہ تہران کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاہدے تک چند دنوں میں پہنچا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں اضافے کی بارہا دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ’’ایران کو سخت نشانہ بنائیں گے‘‘، تاہم اب تک امریکی فوج نے کوئی زمینی دستہ تعینات نہیں کیا اور نہ ہی کسی تزویراتی جزیرے پر قبضہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں اشارہ دیا تھا کہ امریکہ مزید فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے پر زیادہ انحصار کرے گا۔

واشنگٹن نے تہران اور اس سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کیے جانے والے افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں بھی مزید سخت کردی ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ افراد اور ادارے ایران کو ہتھیار حاصل کرنے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دے رہے ہیں۔ تاہم اب تک یہ دباؤ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

 

Ads