وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کے روز مسٹر گاندھی کے بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، "کل اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے مسٹر مودی اورہندستان کی خارجہ پالیسی پر جو باتیں کہیں، وہ اوچھی اور قابلِ مذمت ہیں۔ یہ میرے لیے بھی ذاتی طور پر دکھ کی بات ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں میں نے کسی بھی اپوزیشن کے رہنما کا ایسا بدتمیز اور ناقابلِ تصور رویہ کبھی نہیں دیکھا۔ ایسا رویہ ایک صحت مند جمہوریت کے لیے شدید خطرہ ہے۔"
انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کے دل میں مسٹر مودی کےتعلق سے مایوسی ہو سکتی ہے، لیکن ایسی بدتمیز باتیں قابلِ قبول نہیں ہیں، خاص طور پر تب جب مسٹر مودی نے ملک اور بیرونِ ملک میں ہندستان کا وقار بڑھایا ہے اور ' وکست بھارت' کا راستہ تیار کیا ہے۔ بارہ سالوں تک پوری لگن سے کام کرتے ہوئے انہوں نے ایک بھی چھٹی نہیں لی۔ ایسے وزیرِ اعظم کے خلاف ایسی بدتمیز باتیں ہرہندستانی کو دکھ پہنچاتی ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا، "میں کانگریس پارٹی سے ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی زبان اور رویے کے بعد کیا وہ لال-بال-پال اور گاندھی، پٹیل اور نہرو، سبھاش بابو سے لے کر راجندر بابو اور شاستری جی اور نرسمہا راؤ جی سے لے کر پرنب مکھرجی تک کی میراث پر کوئی دعویٰ کر سکتے ہیں؟"
انہوں نے کہا کہ اس رویے سے مسٹر گاندھی نے نہ صرف مسٹر مودی کی توہین کی ہے، بلکہ ہندستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما کے عہدے کے وقار کو تار تار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ گاندھی عرفیت والا کوئی شخص اتنی شرمناک بات کہہ سکتا ہے۔"
وہیں، مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود اور بی جے پی کے سابق صدر جے پی نّڈا نے سوشل میڈیا 'ایکس' پر کہا، "اپوزیشن کے ایسے رہنما کو دیکھنا ہی باقی رہ گیا تھا۔ یہ ملک کی جمہوریت کی بدقسمتی ہے۔ کانگریس کے لیے بھی یہ کتنے دکھ کی بات ہوگی کہ انہیں مسٹر گاندھی کو اپنا رہنما ماننا پڑ رہا ہے۔"
قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر گاندھی نے جمعرات کے روز یہاں کانفرنس میں کہا تھا، "مجھے نہیں معلوم کہ انہیں (مسٹر مودی کو) یہ خیال کہاں سے آیا۔ لوگوں کے ذہنوں میں عجیب و غریب باتیں آتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہی خارجہ پالیسی ہے۔" اس کے بعد انہوں نے کانگریس رہنما سندیپ دکشت کو گلے لگایا۔ اس پر مسٹردکشت نے کہا، "میلو نی سمجھ کر تو نہیں گلے لگایا تھا؟" ان کا اشارہ اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی اور مسٹر مودی کی طرف تھا۔ اس کے بعد مسٹر گاندھی نے کہا، "میں ابھی اس سطح تک نہیں پہنچا ہوں۔" اس کے بعد وہاں لوگ ہنس پڑے۔
مسٹر گاندھی کی اس حرکت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان اور رکنِ پارلیمنٹ سمبت پاترا نے کہا کہ مسٹر گاندھی کی زبان اور سیاسی رویہ 'دن بہ دن' گرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نیز اٹلی کی وزیرِ اعظم کے خلاف کیے گئے تبصروں کو شرمناک بتایا۔
