مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
