Masarrat
Masarrat Urdu

ایئر انڈیا کا ہر پائلٹ کی منشیات اور ممنوعہ ادویات کے استعمال کی جانچ کا فیصلہ

Thumb

نئی دہلی، 13 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ٹاٹا گروپ کی ایئر لائن کمپنی ایئر انڈیا نے اپنے ہر پائلٹ کے لیے منشیات اور ممنوعہ ادویات کے استعمال کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنی نے پرواز کے بعد اس جانچ کو تمام پائلٹوں کے لیے جمعرات کے روز سے لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ 4 اگست کو پھوکیٹ-دہلی فلائٹ کے دوران طیارے کے ہوا میں اچانک 300 فٹ نیچے غوطہ کھانے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔ نشہ آور اشیاء کے استعمال کے لیے کیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ میں پرواز کا اہم پائلٹ پازیٹیو پایا گیا تھا۔ اس کا سیمپل لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

پرواز نمبراے آئی 2379 کے ساتھ پیش آنے والے اس سنگین واقعے میں 20 مسافر اور عملے کے چار اراکین زخمی ہو گئے تھے۔ پرواز میں تین شیر خوار بچوں سمیت 137 مسافر اور دو پائلٹوں سمیت عملے کے آٹھ اراکین سوار تھے۔

ایئر انڈیا میں فلائٹ آپریشنز کے سربراہ مہیش اپل نے ایئر لائن کے پائلٹوں کو ایک خط جاری کرتے ہوئے بتایا، "...ہم نے گروپ کے تمام پائلٹوں کی ان تمام اشیاء یا ادویات کے لیے مکمل اسکریننگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کی قوانین کے تحت اجازت نہیں ہے۔ یہ ٹیسٹ لازمی ہے اور 13 اگست 2026 سے شروع ہو رہا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ ایئر لائن کی گروگرام اکیڈمی میں تربیت کے دوران، پرواز کے بعد فلائٹ بریفنگ سینٹر یا ایئر انڈیا کے دفاتر میں یا پائلٹ کے متعلقہ بیس کے ذریعے مقرر کردہ مقامات پر کیا جائے گا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے قوانین کے مطابق تمام پائلٹوں کی منشیات کے لیے جانچ لازمی نہیں ہے۔ ڈی جی سی اے نے رینڈم جانچ کی توثیق کی ہے۔

مسٹر اپل نے لکھا کہ یہ پہل جو ضابطہ کاری کی ضروریات سے آگے بڑھ کر ہے، تحفظ اور پیشہ ورانہ معیار کی اعلیٰ ترین سطح کو برقرار رکھنے نیز مسافروں، اسٹیک ہولڈرز اور وسیع تر برادری کو اعتماد دلانے کے کمپنی کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ دہائیوں سے ایئر انڈیا ہندوستانی ایوی ایشن کے شعبے کا پرچم بردار رہی ہے۔ اس دوران ایئر لائن کے پائلٹوں اور دیگر ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیت، مہارت اور سکیورٹی کے تئیں عہد بستگی نے لاکھوں مسافروں اور وسیع تر برادری کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ یہ اعتماد کمپنی کا سب سے اہم اثاثہ ہے، اور اس کی حفاظت کرنا نیز اسے برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔

 

Ads