Masarrat
Masarrat Urdu

امت شاہ کی امیج کا 'غبارہ پھٹ' چکا ہے، پارلیمنٹ آنے کی ہمت نہیں: راہل

Thumb

نئی دہلی، 12 اگست (مسرت ڈاٹ کام) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر داخلہ امت شاہ پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 دنوں سے ایوان سے غائب ہیں اور ان میں پارلیمنٹ میں آ کر طلباء پر پولیس کارروائی سے جڑے سوالات کا جواب دینے کی ہمت نہیں ہے۔

مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو مسٹر شاہ کی تقریر نہیں، بلکہ طلباء پر ہوئی کارروائی کے سوالات کے جواب چاہئیں ۔ انہیں پارلیمنٹ میں آنے کی ہمت دکھانی چاہیئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وزیر داخلہ کو اپنی شبیہ کی زیادہ فکر ہے اس لیے وہ ایوان میں آنے سے بچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "سچ یہی ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ یہاں بیٹھے تھے، گاڑی آتی تھی، جاتی تھی۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں اور ان کے گھر کے سامنے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں، اس ڈر سے کہ کہیں کوئی بچہ نہ آ جائے۔ اب زبردستی اس غبارے میں پھر سے ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن غبارہ پھٹ چکا ہے۔ مسٹر شاہ میں کوئی ہمت نہیں بچی ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ ایوان میں نہیں آ سکتے۔ مسٹر شاہ کے یہ کہنے سے کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، اپوزیشن کا مطالبہ نہیں بدلتا۔"

اپوزیشن لیڈر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "کانگریس صدر ملکارجن کھرگے جی اور میں نے پریس کانفرنس کی ہے۔ باقی اپوزیشن نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ ہم مسٹر شاہ کی تقریر سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم ان کی تقریر یا بحث نہیں چاہتے۔ ہم ایک سادہ سے سوال کا جواب چاہتے ہیں۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کس نے ایک طالب علم کے کان میں گولی ماری؟ کیلوں والی لاٹھیوں سے طلباء کو پیٹنے کا حکم کس نے دیا؟" مسٹر گاندھی نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی وزارتِ داخلہ کے تحت آنے والی دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی طرف سے کی گئی۔ انہوں نے کہا، "کیا امت شاہ نے ہمارے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ اگر انہوں نے دیا تھا تو انہیں استعفیٰ دینا چاہیے، کیونکہ وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ اگر انہوں نے حکم نہیں دیا تھا تو بھی انہیں استعفیٰ دینا چاہیے، کیونکہ وہ نااہل ہیں۔"

انہوں نے میڈیا پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ جب امت شاہ بولتے ہیں تو صحافی انہیں بیچ میں نہیں روکتے، لیکن اپوزیشن رہنماؤں کو مسلسل ٹوکا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا، "جب وہ بولتے ہیں تو کیا آپ انہیں انٹرپٹ کرتے ہیں؟ ہمیں 24 گھنٹے انٹرپٹ کرتے ہیں، مگر ان کو کبھی انٹرپٹ نہیں کرتے۔ ان میں کیا خاص چیز ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے ان کے سامنے کھڑا رہتا ہے؟" مسٹر گاندھی نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر امت شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ڈرنا نہیں چاہیے۔

جھارکھنڈ میں طلباء کے خلاف تشدد کے معاملے پر بی جے پی کے سوال کے جواب میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں جھارکھنڈ پر خاموش نہیں ہوں۔ میں نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا ہے کہ ہم اپنے طلباء کے خلاف کسی بھی طرح کے تشدد کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ میں خاموش نہیں ہوں، کھل کر بول رہا ہوں۔"

 

Ads