اے پی سی آر کے مطابق، اس کے پاس دستیاب سروے فارمس میں متعلقہ مذہبی اداروں کے انتظامی ڈھانچے اور حیثیت سے متعلق متعدد معلومات طلب کی گئی ہیں۔ ان میں ادارے کی مذہبی وابستگی، زمین کی ملکیت، مالی وسائل اور فنڈنگ، غیر ملکی زائرین یا طلبہ کی آمد، ماضی کے مقدمات، ایف آئی آر اور چارج شیٹس کے علاوہ بعض سیاسی یا تنظیمی نوعیت کی معلومات بھی شامل ہیں۔
اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں سے اس نوعیت کی حساس معلومات کا حصول ایک سنجیدہ انتظامی اور قانونی معاملہ ہے۔ ایسی کوئی بھی کارروائی واضح، قابلِ شناخت اور باقاعدہ سرکاری حکم، مجاز اتھارٹی اور متعین قانونی دائرۂ کار کے تحت ہونی چاہیے، تاکہ متعلقہ اداروں کو یہ معلوم ہو کہ معلومات کس اختیار کے تحت، کس مقصد کے لیے اور کس قانونی بنیاد پر طلب کی جا رہی ہیں۔
تنظیم کے مطابق، اس وقت اس کے پاس موجود فارمس میں کسی واضح حکومتی نوٹیفکیشن، میمو نمبر، تاریخ، جاری کرنے والی اتھارٹی یا مخصوص قانونی شق کا حوالہ نمایاں طور پر موجود نہیں ہے۔ اس صورتِ حال میں اے پی سی آر نے ایک بنیادی اور جائز سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ فارم کسی سرکاری یا پولیس حکم کے تحت جاری کیے گئے ہیں تو متعلقہ حکم نامہ متعلقہ مذہبی اداروں اور عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا؟
اے پی سی آر نے خاص طور پر ان سوالات پر تشویش ظاہر کی ہے جن میں مساجد اور دیگر مذہبی اداروں کی مذہبی یا مسلکی وابستگی سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکام کو واضح کرنا چاہیے کہ ایسی معلومات حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے، یہ معلومات سروے کے مبینہ انتظامی مقصد سے کس طرح متعلق ہیں اور ان کا استعمال کس قانونی و انتظامی ضرورت کے تحت کیا جائے گا۔
اے پی سی آر نے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ محکمہ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم، مغربی بنگال کی جانب سے شروع کیا گیا ریاست گیر مدرسہ سروے ایک الگ معاملہ ہے۔ کسی مجاز سرکاری محکمے کی جانب سے منظور شدہ مدرسہ سروے کا وجود، بذاتِ خود، پولیس یا کسی دوسرے ادارے کے ذریعے الگ نوعیت کے فارم جاری کرنے یا اضافی اور حساس معلومات جمع کرنے کے اختیار کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ ہر الگ سروے یا معلومات جمع کرنے کی کارروائی کی اپنی واضح قانونی اور انتظامی بنیاد ہونی چاہیے۔
اے پی سی آر نے مغربی بنگال حکومت اور مغربی بنگال پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی طور پر واضح کریں کہ :
یہ سروے فارم کس سرکاری یا پولیس اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں؟
ان کے اجرا کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا ہے؟
مذہبی اداروں سے یہ معلومات کس مخصوص مقصد کے لیے طلب کی جا رہی ہیں؟ اور
جمع کی جانے والی معلومات تک کن حکام یا اداروں کو رسائی حاصل ہوگی، انہیں کس طریقے سے محفوظ رکھا جائے گا اور مستقبل میں ان کا استعمال کس ضابطے کے تحت کیا جائے گا؟"
اے پی سی آر نے مغربی بنگال حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد از جلد باضابطہ وضاحت جاری کریں، تاکہ مذہبی اداروں، ان کی انتظامیہ اور عوام میں موجود خدشات کا ازالہ ہو اور کسی بھی سرکاری یا پولیس کارروائی کے بارے میں شفافیت، قانونی جواز اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔
