مسٹر گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا، "اب میرے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔" انہوں نے کہا کہ کل پریاگ راج میں ایک طالب علم نے ان سے یہی پوچھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں کی تیاری، گھر کی زمین بیچنے، ماں باپ کے قرض اور اس کے باوجود ہاتھ میں کچھ نہیں آنے کی صورت حال اس طالب علم کی ہار نہیں، بلکہ اس نظام کی ہار ہے جس نے اس کی محنت کا صلہ دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ 13 دن ہو گئے ہیں لیکن وزیر داخلہ امت شاہ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی مانگنے کی توقع تھی لیکن وہ 'معافی' بانٹ رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا، "امت شاہ جی، یہ مت سمجھیے کہ ہم جوابدہی مانگنا بند کر دیں گے۔ دارالحکومت کی سڑکوں پر بچوں پر لاٹھیاں اور پیلیٹ چلائے گئے اور آپ نے ایک لفظ نہیں کہا۔ آج نہیں تو کل، اس جرم کا جواب آپ کو دینا ہی پڑے گا۔" انہوں نے 13 دسمبر 2023 کو پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں ہوئی غفلت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت بھی اپوزیشن نے وزیر داخلہ سے پارلیمنٹ میں بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جس طرح اس وقت وزیر داخلہ اس مسئلے پر خاموش رہے، اسی طرح اب پچھلے مہینے مظاہرہ کر رہے نوجوانوں پر دہلی پولیس کی کارروائی کو لے کر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 14 سے 21 دسمبر 2023 کے درمیان لوک سبھا کے 100 اور راجیہ سبھا کے 46، کُل 146 اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کی انتہائی محدود موجودگی کے درمیان اس سیشن کے باقی حصے میں بھارتیہ نیائے سنہتا، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا، بھارتیہ ساکش ادھینیم نیز چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق بل سمیت کئی اہم قوانین پاس کیے گئے۔ انہوں نے کہا، "تاریخ کو دہرایا نہیں جانا چاہیے۔ طلبہ ملک کی روشنی ہیں اور میں ان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہوں۔"
