تہران، 3 اگست (مسرت ڈاٹ کام) شہید اسماعیل ہنیہ کی دوسری برسی پر جاری بیان میں سپاہ پاسداران نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت میں عالمی بیداری بڑھ رہی ہے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ کی دوسری برسی کے موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی سازش اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے گی اور یہ منصوبہ ابتدا ہی سے اسٹریٹجک ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت نے فلسطینی عوام اور حماس کے مجاہدین کے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ مزاحمت کے بیانیے کو تقویت ملی اور دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت کی لہر مزید وسیع ہوئی ہے۔
سپاہ پاسداران نے کہا کہ تہران میں شہید اسماعیل ہنیہ کا قتل، اس وقت کیا گیا جب وہ ایرانی صدر کی تقریبِ حلف برداری میں سرکاری مہمان کی حیثیت سے شریک تھے، جو بین الاقوامی قوانین، ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ دو سال گزرنے کے باوجود غزہ میں صہیونی حکومت کی نسل کشی، لبنان کے جنوبی علاقوں تک جنگ کا پھیلاؤ اور بعد ازاں امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگوں نے اسرائیل کی دہشت گرد اور مجرمانہ حقیقت کو پہلے سے زیادہ بے نقاب کر دیا ہے۔
سپاہ پاسداران نے کہا کہ امریکہ، بعض مغربی ممالک اور خطے کی چند ممالک اسرائیل کی عسکری اور سیاسی حمایت کررہے ہیں۔ یہ ممالک بھی غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور جنگی جرائم کے شریک ہیں اور ان پر بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
بیان میں شہید اسماعیل ہنیہ، شہید سید حسن نصر اللہ، شہید جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر شہدائے مزاحمت کی قربانیوں کو امت مسلمہ کے اتحاد کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ آج مزاحمت کا بیانیہ عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ مؤثر ہو چکا ہے، جبکہ دنیا بھر میں فلسطینی عوام کے حق میں ہونے والے احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی ضمیر صہیونی جرائم کو مسترد کر رہا ہے۔
سپاہ پاسداران نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ شہید اسماعیل ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا یقینی ہے اور اس جرم کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی، شہید ہنیہ کا راستہ عزت، وقار اور آزادی کا راستہ ہے، جو فلسطین کے مقاصد کی تکمیل اور بیت المقدس پر قبضے کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
