Masarrat
Masarrat Urdu

محمد رفیع کی آواز آج بھی نسل در نسل سامعین کے دلوں میں زندہ ہے

Thumb

ممبئی،31 جولائی(مسرت ڈاٹ کام) محمد رفیع ہندوستان کے معروف اور عظیم ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے جن کی جادوئی آواز نے دہائیوں تک کروڑوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ انہوں نے ہندوستانی سنیما کو بے شمار یادگار، خوبصورت اور سدا بہار نغمے دیے جن میں غزلیں، دیش بھکتی کے گیت، قوالیاں، اور محبت بھرے گانے شامل ہیں۔ ان کی ہمہ جہت آواز اور شفیق شخصیت کی وجہ سے انہیں موسیقی کی دنیا میں انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

محمد رفیع ہندوستان کے معروف اور عظیم ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے جن کی جادوئی آواز نے دہائیوں تک کروڑوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ انہوں نے ہندوستانی سنیما کو بے شمار یادگار، خوبصورت اور سدا بہار نغمے دیے جن میں غزلیں، دیش بھکتی کے گیت، قوالیاں، اور محبت بھرے گانے شامل ہیں۔ ان کی ہمہ جہت آواز اور شفیق شخصیت کی وجہ سے انہیں موسیقی کی دنیا میں انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

محمد رفیع برصغیر کے عظیم ترین پلے بیک گلوکاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی آواز کی مٹھاس، وسعت اور جذباتی کیفیت نے انہیں ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ کا ایک لازوال نام بنا دیا۔ محمد رفیع کو آج بھی برصغیر میں موسیقی کے سب سے محبوب اور بااثر گلوکاروں میں شمار کیا جاتا ہے، اور ان کی آواز نسل در نسل سامعین کے دلوں میں زندہ ہے۔اتنی شیریں آواز کے مالک محمد رفیع جنہیں آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے، گلوکاری کی تحریک ایک فقیر سے ملی تھی۔

پنجاب کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں 24دسمبر 1924 کو ایک متوسط مسلم خاندان میں پیدا ہوئے محمد رفیع ایک فقیر کے نغمے کو اکثر سنا کرتے تھے،جس سے ان کے دل میں موسیقی کے تئیں محبت پیدا ہوگئی۔ رفیع کے بڑے بھائی حمید نے محمد رفیع کے دل میں موسیقی کے تئیں رجحان دیکھا تو انہیں اس راہ پر آگے بڑھانے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔

لاہور میں رفیع موسیقی کی تعلیم استاد عبدالواحد خان سے لینے لگے اور ساتھ ہی انہوں نے غلام علی خان سے کلاسیکی موسیقی بھی سیکھنی شروع کی ۔ایک بار حمید رفیع کو لے کر کے ایل سہگل کےموسیقی پروگرام میں گئے،لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کے ایل سہگل نے گانےسے انکار کردیا۔

حمید نےپروگرام کے کنوینر سے گزارش کی کہ وہ ان کے بھائی کو پروگرام میں گانے کا موقع دیں۔کنوینر کے راضی ہونے پر رفیع نے پہلی بار 13سال کی عمر میں اپنا پہلا نغمہ اسٹیج پر پیش کیا۔شائقین کے درمیان بیٹھے موسیقار شیام سندر کو ان کا نغمہ پسند آیا اور انہوں نے رفیع کو ممبئی آنے کی دعوت دی۔

شیام سندر کی موسیقی کی ہدایت میں رفیع نے اپنا پہلا گانا ’سونيے نی ہیریے نی‘ ،زینت بیگم کے ساتھ ایک پنجابی فلم ’گل بلوچ‘كے لیے گایا۔ سال 1944 میں نوشاد کی موسیقی میں انہوں نے اپنا پہلا ہندی گانا ’ہندوستان کے ہم ہیں‘فلم ’پہلے آپ‘ کے لیے گایا۔

سال 1949 میں نوشاد کی موسیقی کی ہدایت میں فلم دلاری میں گائے گانے سہانی رات ڈھل چکی .. کے ذریعے ان پر کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ دلیپ کمار، دیو آنند، شمی کپور، راجندر کمار، ششی کپور، راجکمارجیسے نامور ہیرو کی آواز کہے جانے والے رفیع نے اپنے طویل کریئر میں تقریباً 700 فلموں کے لیے 26000 سے بھی زیادہ گانے گائے۔

محمد رفیع فلم انڈسٹری میں اپنی خوش مزاجی کےلئے جانے جاتے تھے، لیکن ایک بار ان کی مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کے ساتھ ان بن ہو گئی ۔انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ سینکڑوں گانے گائے تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب رفیع نے ان سے بات چیت تک کرنی بند کر دی تھی۔ لتا منگیشکر گانوں پر رایلٹی کی حامی تھیں جبکہ رفیع نے کبھی بھی رایلٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔

رفیع صاحب کا خیال تھا کہ ایک بار جب فلم سازوں نے گانے کے پیسے دے دیئے تو پھر رایلٹی کا کوئی مطلب نہیں ۔دونو ں کے درمیان تنازعہ اتنا بڑھا کہ محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان بات چیت بھی بند ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ گانا گانے سے انکار کر دیا، تاہم چار سال کے بعد اداکارہ نرگس کی کوشش سے دونوں نے ایک ساتھ ایک پروگرام میں دل پکارے گانا گایا۔

محمد رفیع نے ہندی فلموں کے علاوہ مراٹھی اور تیلگو فلموں کے لئے بھی گانے گائے۔ محمد رفیع کو اپنے کریئر میں چھ بار فلم فیئر ایوارڈ سےاور 1965 میں پدمشري ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔
رفیع صاحب اداکار امیتابھ بچن کے بہت بڑے پرستار تھے۔جبکہ انہیں فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں تھا لیکن کبھی کبھی وہ فلم دیکھ لیا کرتے تھے۔ایک بار انہوں نے امیتابھ بچن کی فلم دیوار دیکھی تھی۔اس کے بعد ہی وہ امیتابھ کے بہت بڑے پرستار بن گئے۔

سال 1980 میں آئی فلم نصیب میں رفیع صاحب کو امیتابھ کے ساتھ ’’چل چل میرے بھائی‘‘گانا گانے کا موقع ملا،امیتابھ کے ساتھ اس گانے کو گانے کے بعد وہ بہت خوش ہوئے تھے۔امیتابھ کے علاوہ انہیں شمی کپور اور دھرمیندر کی فلمیں بھی بہت پسند آتی تھیں۔انہیں امیتابھ-دھرمیندر کی فلم شعلے بہت بے حد پسند تھی اور انہوں نے اسے تین بار دیکھا تھا۔

30 جولائی 1980 کوفلم ’آس پاس‘کے گانے ’’شام کیوں اداس ہے دوست‘‘ مکمل کرنے کے بعد جب رفیع نے لکشمی کانت پيارےلال سے کہا ’کیا میں جا سکتا ہوں؟‘ جسے سن کر وہ حیران ہوگئے، کیونکہ اس سے پہلے رفیع نے ان سے کبھی اس طرح اجازت نہیں مانگی تھی۔اگلے دن 31 جولائی 1980 کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
 

Ads