امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے اس کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ اردن میں امریکی فوج کی مسلسل موجودگی ملک کو سکیورٹی، سیاسی اور معاشی مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔ دستخط کنندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے امریکی فوجی موجودگی پر نظرثانی کی جائے اور اس حوالے سے واضح پالیسی اختیار کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق اردنی حکومت کے ترجمان نے خط یا اس میں کیے گئے دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
نیویارک ٹائمز نے مزید بتایا کہ پیر کے روز اردنی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بھی اس معاملے پر کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ اجلاس میں رکن پارلیمنٹ علی الخلیلہ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر تعزیتی قرارداد پیش کرنے کی تجویز دی، جس پر دیگر ارکان نے سخت احتجاج کیا۔
رپورٹ کے مطابق بعض ارکان پارلیمنٹ نے امریکی فوج پر خطے میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہلاکتوں کا الزام عائد کیا، جس کے باعث ایوان میں شدید بحث ہوئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کھلے خط پر دستخط کرنے والے افراد اردن کی مجموعی عوامی رائے کی کس حد تک نمائندگی کرتے ہیں، کیونکہ ملک میں عوامی رائے کے آزادانہ اور باقاعدہ سروے محدود ہیں۔
